سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! رہنمائی فرمائیں کہ میں ایک جگہ پر انٹرویو پر گیا اور وہاں میں نے ان کے پوچھنے پر ان کو یہ کنفرم کیا کہ میں ان کے پاس جاب پر آ جاؤں گا اگر مجھے میری پرانے انڈسٹری والے روکتے ہیں تو بھی میں آپ کے پاس جاب پر آ جاؤں گا۔
لیکن اب یہاں میری پرانی انڈسٹری نے میرے سیلری بڑھا دی ہے اور اب میں وہاں (نئی جگہ) نہیں جانا چاہ رہا کیونکہ یہاں میں تقریبا 13 سال سے جاب کر رہا ہوں اور میں ان سے اپنی بات بھی خراب نہیں کرنا چاہ رہا تو کیا اس عہد شکنی کی وجہ سے مجھے کوئی کفارہ وغیرہ دینا ہوگا؟ برائے کرم رہنمائی فرما دیں جزاک اللہ
جواب: اسلام میں وعدہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ "اور عہد کو پورا کرو، یقین جانو کہ عہد کے بارے میں (تمہاری) باز پرس ہونے والی ہے" (بنی اسرائیل: 34)
وعدہ خلافی اور عہد شکنی اس درجہ مذموم ہے کہ آپ ﷺ نے وعدہ خلافی کو منافق کی علامتوں میں سے شمار کیا ہے۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ کو وعدے کے مطابق نئی جگہ ملازمت شروع کردینی چاہیے تھی، خاص طور پر جبکہ آپ نے ان سے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ 'اگر مجھے میری پرانے انڈسٹری والے روکتے ہیں تو بھی میں اپ کے پاس جاب پر آ جاؤں گا۔'' لیکن اب جب آپ نے دنیوی (مالی) فائدے کو دیکھتے ہوئے پہلی جگہ ملازمت جاری رکھی ہے تو وعدہ خلافی کی وجہ سے آپ گناہ گار ہوئے ہیں، اس پر آپ توبہ و استغفار کریں، وعدہ خلافی کا کوئی مخصوص مالی کفّارہ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (بنی اسرائیل، الآیۃ: 34)*
وَ اَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡئُوۡلًاo
*صحیح البخاری: (16/1، ط: دار طوق النجاۃ)*
حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان "
*مسند احمد: (رقم الحدیث: 22133)*
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأُنَبِّئُكَ بِأَبْوَابٍ مِنْ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ وَقِيَامُ الْعَبْدِ مِنْ اللَّيْلِ ثُمَّ قَرَأَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
*الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: (77/44، ط: دار السلاسل)*
قال الحنفية: الخلف في الوعد حرام إذا وعد وفي نيته أن لا يفي بما وعد، أما إذا وعد وفي نيته أن يفي بما وعد فلم يف، فلا إثم عليه
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی