سوال:
آج کل اپنی پسند کے مطابق تیار کیے جانے والے نکاح پین (Customized Nikah Pens)، ریزن آرٹ (Resin Art) کے ڈیکوریشن پیسز اور دیگر سجاوٹی اشیاء پر قرآنی آیات لکھی جاتی ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ گاڑی میں سفر کی دعا یا قرآنی آیات پر مشتمل سجاوٹی چیزیں بھی لٹکاتے ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس طرح قرآنی آیات کو سجاوٹ یا ڈیکوریشن کے طور پر استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ایسی اشیاء بنانا، فروخت کرنا، خریدنا اور استعمال کرنا جائز ہے؟
جواب: واضح رہے کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس لیے اس کی تعظیم اور احترام ہر مسلمان پر لازم ہے، لہٰذا کسی ایسی چیز پر قرآنی آیات لکھنا یا نقش کرنا جس کے گرنے، پاؤں تلے آنے یا کسی بھی طرح بے ادبی اور بے حرمتی کا اندیشہ ہو تو شرعاً جائز نہیں، بلکہ اس سے اجتناب ضروری ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں قلم (Pen)، ریزن آرٹ، کسٹمائزڈ نکاح پین، سجاوٹی اشیاء یا دیگر ڈیکوریشن پیسز (decoration pieces) پر قرآنی آیات اس وقت لکھنا جائز ہوگا جب غالب گمان یا اطمینان ہو کہ ان اشیاء کی مکمل تعظیم و حفاظت کی جائے گی، وہ زمین پر نہیں گریں گی، انہیں مناسب اور بلند جگہ رکھا جائے گا، اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بے ادبی یا بے حرمتی کا اندیشہ نہیں ہوگا، البتہ اگر ایسی اشیاء کے گرنے، ضائع ہونے یا ان کی بے ادبی کا اندیشہ ہو تو ان پر قرآنی آیات لکھنا درست نہیں ہے۔
اسی طرح گاڑی وغیرہ میں سفر کی دعا یا دیگر مسنون دعائیں اس انداز سے آویزاں کرنا کہ وہ اوپر کی جانب محفوظ رہیں اور ان کی بے ادبی کا کوئی اندیشہ نہ ہو، شرعاً جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الكريم: (الحج، الآية: ٣٢)*
﴿ ذَٰلِكَ ۚ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ ●﴾
*فتح القدير للكمال بن الهمام: (1/ 169، ط: ط الحلبي)*
تُكْرَهُ كِتَابَةُ الْقُرْآنِ وَأَسْمَاءُ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى الدَّرَاهِمِ وَالْمَحَارِيبِ وَالْجُدْرَانِ وَمَا يُفْرَشُ.
*رد المحتار: (2/ 246، ط: دار الفكر)*
وَقَدَّمْنَا قُبَيْلَ بَابِ الْمِيَاهِ عَنْ الْفَتْحِ أَنَّهُ تُكْرَهُ كِتَابَةُ الْقُرْآنِ وَأَسْمَاءِ اللَّهِ - تَعَالَى - عَلَى الدَّرَاهِمِ وَالْمَحَارِيبِ وَالْجُدْرَانِ وَمَا يُفْرَشُ، وَمَا ذَاكَ إلَّا لِاحْتِرَامِهِ، وَخَشْيَةِ وَطْئِهِ وَنَحْوِهِ مِمَّا فِيهِ إهَانَةٌ فَالْمَنْعُ هُنَا بِالْأَوْلَى مَا لَمْ يَثْبُتْ عَنْ الْمُجْتَهِدِ أَوْ يُنْقَلْ فِيهِ حَدِيثٌ ثَابِتٌ فَتَأَمَّلْ.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی