سوال:
مفتی صاحب! مسجد میں حفاظت کی غرض سے مسجد کے چندہ کے پیسوں سے کیمرہ لگوانا جائز ہے یا نہیں؟ کچھ کمیٹی کے حضرات منع فرما رہے ہیں کہ یہ مسجد کے مصالح میں سے نہیں ہے، اس لیے مسجد کے چندہ کے پیسے سے مسجد میں بھی حفاظت کی غرض سے کیمرہ لگوانا جائز نہیں ہے،جبکہ بعض کمیٹی کے حضرات جائز کہہ رہے ہیں، براہ کرم آپ صحیح رہنمائی فرمادیں۔
جواب: بغرضِ حفاظت مسجد میں یا اس کے دروازوں اور آمد و رفت کی جگہ کیمرے لگوانا جائز ہے، تاہم اس کے لیے مسجد کے عمومی چندہ کو استعمال کرنے کے بجائے اسی غرض سے چندہ کرلینا چاہیے یا پہلے سے جمع شدہ چندہ کے چندہ دینے والوں سے اس کی اجازت لے لینی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (656/1، ط: الحلبي)
(و) كما كره (غلق باب المسجد) إلا لخوف على متاعه به يفتى.
وفي رد المحتار تحته: (قوله غلق باب المسجد) الأفصح إغلاق، لما في القاموس: غلق الباب يغلقه لغية رديئة في أغلقه. اه. قال في البحر: وإنما كره لأنه يشبه المنع مع الصلاة، قال تعالى - {ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه} [البقرة: 114]- ومن هنا يعلم جهل بعض مدرسي زماننا من منعهم من يدرس في مسجد تقرر في تدريسه، وتمامه فيه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی