resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: امام اور مقتدی کے لیے نماز کی تکبیراتِ انتقال کہنے کا حکم (4829-No)

سوال: مفتی صاحب ! جماعت سے نماز پڑھتے ہوئے امام اور مقتدی کے لیے ساری تکبیراتِ انتقال کا بلند آواز سے کہنا لازمی ہے یا دل میں کہنا کافی ہے؟ اور اگر کوئی مقتدی یہ تکبیرات کہنا بھول جائے تو کیا حکم ہوگا؟

جواب: واضح رہے کہ جماعت سے نماز پڑھتے وقت امام کے لیے تکبیراتِ انتقال بلند آواز سے کہنا مسنون ہے، جبکہ مقتدی آہستہ آواز سے تکبیرات کہے گا، لہذا قصداً ان تکبیرات کو نہیں چھوڑنا چاہیے، تاہم اگر کوئی مقتدی کسی وجہ سے نہ کہہ سکے تو اس کی نماز ادا ہو جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

معارف السنن: (باب ما جاء في التکبیر عند الرکوع و السجود، 446/2)
"قال الراقم : تکبیرات الانتقالات سنۃ عند الجمہور ، قال ابن المنذر : وبہ قال أبو بکر الصدیق وعمر وجابر وقیس بن عبادۃ والشعبي والأوزاعي وسعید بن عبد العزیز ومالک والشافعي وأبو حنیفۃ ، ونقلہ ابن بطال أیضًا عن عثمان وعلي وابن مسعود وابن عمر وأبي ہریرۃ وابن الزبیر ومکحول والنخعي وأبي ثور".

الدر المختار: (باب صفۃ الصلاۃ، مطلب سنن الصلاۃ، 475/1)
"(وجهر الإمام بالتكبير) بقدر حاجته للإعلام بالدخول والانتقال، وكذا بالتسميع والسلام، وأما المؤتم والمنفرد فيسمع نفسه".

البحر الرائق: (باب صفة الصلاۃ، 528/1)
"قولہ: (وجہر الإمام بالتکبیر) لحاجتہ إلی الإعلام بالدخول والانتقال ، قید بالإمام ؛ لأن المأموم والمنفرد لا یسن لہما الجہر بہ ، لأن الأصل في الذکر الإخفاء ولا حاجۃ لہما إلی الجہر".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

muqtadi kay liye namaz ki takbeerat intiqal kehne ka hukum, Ruling / order to say the takbeerat of the janaza / death prayer for the Muqtadi

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)