عنوان: شوہر کیلیے بیوی کے گھر کے تحائف قبول کرنے اور مہر معجل و مؤجل کا شرعی حکم(4847-No)

سوال: مفتى صاحب ! لڑکے کے لیے ان چیزوں کو قبول کرنا کیسا ہے، جو چیزیں لڑکی والے خود سے اپنی بیٹی کو دیں؟ نیز مہر معجل و غير معجل کی کیا حقیقت ہے؟

جواب: واضح رہے کہ لڑکی کو جو چیزیں والدین کی طرف سے ملتی ہیں، اگر لڑکی اپنی رضامندی اور طیب خاطر سے شوہر کو دیدے، تو شوہر کیلیے اسے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واضح رہے کہ مہر کی دو قسمیں ہوتی ہیں:
ایک معجل اور دوسری مؤجل۔
مہر معجل کی تعریف :
مہر معجل سے مراد وہ مہر ہے، جس کا ادا کرنا نکاح کے فوری بعد ذمہ میں واجب ہوجاتا ہے۔
مہر معجل کا حکم:
بیوی کو نکاح کے فوری بعد مطالبہ کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔
مہر مؤجل کی تعریف :
مہر مؤجل سے مراد یہ ہے جس کا نکاح کے بعد فوری طور پر ادا کرنا واجب نہ ہو، بلکہ اس کی ادائیگی کے لیے کوئی خاص مدت مقرر کی گئی ہو، خواہ مدت قریب ہو یا مدت بعید یا مدت سرے سے متعین نہ کی گئی ہو۔
مہرمؤجل کا حکم:
بیوی کو اس مقررہ وقت کے آنے سے پہلے اس مہر کے مطالبے کا حق نہیں ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الموسوعة الفقہیۃ الکویتیة: (318/49، ط: دار السلاسل)
المهر في اللغة: صداق المرأة؛ وهو: ما يدفعه الزوج إلى زوجته بعقد الزواج؛ والجمع مهور ومهورة.

الھندیة: (318/1، ط: دار الفکر)
وإن بينوا قدر المعجل يعجل ذلك، وإن لم يبينوا شيئاً ينظر إلى المرأة وإلى المهر المذكور في العقد أنه كم يكون المعجل لمثل هذه المرأة من مثل هذا المهر فيجعل ذلك معجلاً ولايقدر بالربع ولا بالخمس وإنما ينظر إلى المتعارف، وإن شرطوا في العقد تعجيل كل المهر يجعل الكل معجلاً ويترك العرف، كذا في فتاوى قاضي خان ... ولو قال: نصفه معجل ونصفه مؤجل كما جرت العادة في ديارنا ولم يذكر الوقت للمؤجل اختلف المشايخ فيه قال بعضهم: لايجوز الأجل ويجب حالاً، وقال بعضهم: يجوز ويقع ذلك على وقت وقوع الفرقة بالموت أو بالطلاق، وروى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - ما يؤيد هذا القول، كذا في البدائع.۔۔۔۔لا خلاف لأحد أن تأجيل المهر إلى غاية معلومة نحو شهر أو سنة صحيح، وإن كان لا إلى غاية معلومة فقد اختلف المشايخ فيه، قال بعضهم: يصح وهو الصحيح وهذا؛ لأن الغاية معلومة في نفسها وهو الطلاق أو الموت ألا يرى أن تأجيل البعض صحيح، وإن لم ينصا على غاية معلومة، كذا في المحيط. وبالطلاق الرجعي يتعجل المؤجل ولو راجعها لايتأجل، كذا أفتى الإمام الأستاذ، كذا في الخلاصة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 859 Jul 21, 2020
shohar / husband kelie / keliye bivi / biwi ke / key ghar k gifts / tahaief / tahaeff qabool / qubool / qobool karne / karney or mehre / mehrey muajjal wa muajjal ka shari / sharai hokom / hokum, Shari'a rules for the husband to accept gifts from his wife's house and mehre muajjal and muajjal

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.