عنوان: یہ دنیا آزمائش اور امتحانات کی جگہ ہے۔(104957-No)

سوال: مفتی صاحب ! میں اس وقت بینک اسلامی میں ملازمت کرتا ہوں، اس سے پہلے میں میزان بینک میں ملازمت کرتا تھا، جب میں میزان بینک میں ملازمت کرتا تھا، تو میری تنخواہ کم تھی، لیکن مجھے کبھی ہاتھ کی تنگی نہیں ہوئی، لیکن جب میں نے جنوری دو ہزار بیس (2020) میں اچھی تنخواہ پر بینک اسلامی جوائن کرنے کا ارادہ کیا، تو میں نے سوچا كہ آج كے بعد میں ہر ماہ اپنی تنخواہ کا تیس فیصد اللہ کی راہ میں دوں گا، سو میں نے جنوری دو ہزار بیس (2020) سے اپنی تنخواہ کا تیس فیصد اللہ کی راہ میں دینا شروع کر دیا، لیکن جب سے میں نے یہ عمل شروع کیا ہے، تب سے میرے پیسوں میں وہ برکت نہیں رہی، جو پہلے ہوتی تھی، لہذا رہنمائی فرمائیں کہ ایسے میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ میں ایسی کیا غلطی کر رہا ہوں، جس کی وجہ سے میرے پیسوں کی برکت ختم ہو گئی ہے؟

جواب: دنیا میں ہر امیر غریب، نیک و بد کو اللہ تعالی کے قانون قدرت کے تحت دکھوں، غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے، کیونکہ یہ دنیا مصیبتوں، پریشانیوں اور غموں کا گھر ہے، لیکن یہ پریشانیاں دو قسم کی ہوتی ہے:
ایک پریشانی وہ ہوتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کا عذاب ہوتا ہے، جو گویا اخروی عذاب کی ایک جھلک ہوتی ہے اور یہ اس لیے آتی ہے، تاکہ انسان نافرمانی سے باز آجائے، جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْن“․(السجدة:۲۱)

ترجمہ:
”اور ہم ضرور ان کو قریب کا چھوٹا عذاب چکھائیں گے بڑے عذاب سے پہلے، تاکہ وہ لوٹ آئیں ۔“

پریشانی کی دوسری قسم وہ ہوتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں ہوتی؛ بلکہ اس کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے، جو درجات کی بلندی یا گناہوں کے مٹنے کا ذریعہ بنتی ہے اور یہ پریشانی اور تکلیف درحقیقت اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہوتی ہے کہ اس چھوٹی سی تکلیف کے سبب اللہ تعالیٰ اپنے کمزور بندے کو آخرت کے بڑے عذاب سے بچالیتے ہیں یا رفع درجات کی صورت میں آخرت کی بڑی نعمت عطا فرمادیتے ہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر زیادہ آزمائشیں آئیں اور پھر جس کا جس قدر اُن سے زیادہ تعلق ہوگا، زیادہ قرب ہوگا، زیادہ اتباع ہوگی، اس پر بھی آزمائشیں زیادہ آئیں گی؛ مگر خدانخواستہ انبیاء علیہم السلام پر آنے والی یہ تکالیف اور آزمائشیں کوئی سزا نہیں تھیں؛ بلکہ ان کے درجات کو مزید بلند کرنا مقصد تھا۔
اس لیے پریشانیاں، مصبتیں آنے پر انسان کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر کہاں اللہ تعالی کے احکامات میں کوتاہی ہورہی ہے، اگر کوئی کوتاہی نہیں ہے تو ان پریشانیوں اور مصبتوں پر صبر کرنا چاہیے اور اگر کہیں کوتاہی ہے تو اس پر نادم ہوکر اللہ تعالی سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگنی چاہیے اور گناہ چھوڑ کر اپنے اعمال کی اصلاح کرنا چاہیے۔


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

معاشرت (اخلاق وآداب ) میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

06 Aug 2020
جمعرات 06 اگست - 15 ذو الحجة 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com