resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: امام مسجد کے بعض طرز عمل کی موجودگی میں اس کی اقتدا کا شرعی حکم

(50315-No)

سوال: مفتی صاحب! درج ذیل گزارشات پر آپ کی شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
ہماری مسجد کے سابقہ امام صاحب کو صدر مسجد نے اس وجہ سے امامت کے منصب سے فارغ کردیا تھا کہ انہوں نےچھٹی لینے کی وجہ بتا ئی کہ گاؤں جانا ہے لیکن وہ عمرہ پر چلے گئے۔ (نکالنے کی وجہ یہ بتائی کہ انہوں نے جھوٹ بولا)۔
کچھ عرصہ قبل مسجد کا یتزیین و آرایش کا کام ہورہا تھاتو کا م کی دیکھ بھال کے لیے مسجد میں خاصہ وقت گزرا، اس دوران موجودہ امام صاحب کی بہت سی با تیں سامنے آئیں۔
1) مسجد کیلئے دروازہ بنوایاتھا، کاریگر نے دروازہ مسجد بھیج دیا، اما م صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نےکہا کہ مجھے نہیں پتا، کاریگر کے کنفرم کر نے پر دوبارہ پو چھا تو مسجد کے فرسٹ فلور پرپرانے قرآنی آیات کے طغروں کے پیچھےچھپا کررکھا تھا، وہاں سے نکال کر دیا اور کہا اس کو نہ لگوائیں ہم اس جگہ جھاڑو اور چپل وغیرہ رکھتے ہیں جواسٹینڈرڈ سائز کا نہ ہونے کی وجہ سے بعد میں نقصان میں فروخت ہوا۔(یہ واقعہ وضو خانہ کی تعمیر کے وقت کا ہے)
2) کام کے دوران کی ساری رپورٹنگ صدر کے گھر جا کر کرتے اور ہم سےکہتے کہ یہاں کیمرے موجود ہیں، جس سے تمام باتوں کا صدر کو علم ہو جاتا ہے اور کچھ لو گ بھی سراغ رسانی کرتے ہیں، کام مکمل ہونے پر صدر صاحب سے ملاقات پر انہوں نے خود تصدیق کی کہ ساری خبریں مسجد کے خدام دیتےتھے۔ (مسجد کے خدام میں صرف امام اور موزں ہیں، تیسرا کوئی نہیں ہے)
3) مسجد کے ڈنکی پمپ کی سپلائی مجھ سےشارٹ ہو گئی، امام صاحب کو بتایا کہ یہ مجھ سے خراب ہو گئی ہے، دوسری لے لیں، پیسے میں دوں گا۔ دوکان پر گئے غلط بیانی کی کہ یہ نہیں چل رہی اور بغیر معاو ضہ کے بدلی کر وا کر لے آئے۔ (یہ الکٹرک سپلائ ایک دن پہلے خریدی تھی)
4) تعمیراتی کام کے لئےاہل محلہ نےخطیر رقم عطیہ کی ، جب امام صا حب سےرسید کےبارےمیں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نہیں کاٹی۔
5) مسجد کے چندے وغیرہ کی رقم کا گوشوارہ بورڈ پر لکھنے کی بات پر امام صا حب نےبرہمی کا اظہار کیا، ساتھ ہی مشینوں کی مرمت کے بل کا پو چھا تو بتایا کہ صدر کے پاس ہے (تمام ریکارڈ مسجد میں ہی موجود ہوتا ہے، صدر کو کچھ دیکھنا ہوتا ہے تو مسجد میں آ کر دیکھتے ہیں) اورکہا کہ اس محلہ سےجس جس نے آنا ہے آجائے سب کو دیکھ لوں گا، اس وجہ سے خاموش ہوں کہ لوگ کہیں گے کہ مولوی بدمعاش ہے۔
6) امام صاحب نے اپنے طور پر بغیرکسی کے علم میں لائے مسجد کا پنکھا سامنے دکاندار کو اس کے استعمال کےلئے دے دیا، اس کا علم تقریبا ایک سال کے بعد ہوا تو اس سے واپس لیا۔ مسجد کی اور بھی اشیاء مثلاً: اسٹول اور سیڑھی وغیرہ بھی محلہ میں استعمال کے لئے دے دیتے ہیں۔
ہم چند لوگ نے اپنے تئیں فنڈ اکھٹا کرکے مسجد کی تزیین و آرائش کا کام کروایا، جبکہ ہمارا مسجد کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
درج بالا نقائص کی موجودگی میں کیا ایسے شخص کی امامت میں نماز کی ادائیگی درست ہے؟ شرعی رہنمائی فرما ئیں تاکہ ہم اپنی نمازیں پرسکون انداز میں ادا کر سکیں، ان باتوں کا علم صرف چندافراد کو ہے جنہوں نے تعمیراتی کام کے دوران مسجد میں کافی وقت گزارا اور ان با توں کو عوام الناس تک نہیں پہنچایا۔

جواب: واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ کی رو سے امامت ایک نہایت اہم دینی منصب ہے، لہذا مسجد کے لیے ایسے شخص کو امام مقرر کرنا چاہیے جو دیندار، متقی، امانت دار، حسن اخلاق کا حامل اور امامت کے فرائض علمی و عملی طور پر صحیح انداز میں ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ امام کا عقیدہ درست ہے، وہ فرائض و واجبات کی پابندی کرتا ہے اور صحیح طریقے سے قراءت کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے تو محض سوال میں ذکر کردہ الزامات اور بد اختیاریوں کی بنا پر اس کی اقتدا میں ادا کی گئی نمازیں باطل یا فاسد نہیں ہوں گی، اس کے پیچھے نماز ادا کرنا شرعاً درست ہے، اور مقتدیوں کی نماز ادا ہو جائے گی۔
شریعتِ اسلامی کا بنیادی اصول ہے کہ کسی بھی فرد پر سنگین الزامات (مثلاً خیانت، جھوٹ یا چوری وغیرہ) عائد کرنے سے پہلے دوسرے فریق (امام صاحب) کا مؤقف بھی سننا ضروری ہوتا ہے، چونکہ یہ تمام الزامات یکطرفہ ہیں اور اس وقت تک امام صاحب کا جواب سامنے نہیں آیا، اس لیے قطعی طور پر ان الزامات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (156/1، ط: دار الکتب العلمية)
وَأَمَّا بَيَانُ مَنْ يَصْلُحُ لِلْإِمَامَةِ فِي الْجُمْلَةِ فَهُوَ كُلُّ عَاقِلٍ مُسْلِمٍ، حَتَّى تَجُوزَ إمَامَةُ الْعَبْدِ، وَالْأَعْرَابِيِّ، وَالْأَعْمَى، وَوَلَدِ الزِّنَا وَالْفَاسِقِ، وَهَذَا قَوْلُ الْعَامَّةِ۔

البحر الرائق: (370/1، ط: دار الکتاب الاسلامی)
وَفِي الْفَتَاوَى لَوْ صَلَّى خَلْفَ فَاسِقٍ أَوْ مُبْتَدِعٍ يَنَالُ فَضْلَ الْجَمَاعَةِ لَكِنْ لَا يَنَالُ كَمَا يَنَالُ خَلْفَ تَقِيٍّ وَرِعٍ لِقَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «مَنْ صَلَّى خَلْفَ عَالِمٍ تَقِيٍّ فَكَأَنَّمَا صَلَّى خَلْفَ نَبِيٍّ»۔

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment