resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بینکنگ سیکٹر کیلئے کسٹمر سروس مینجر (Customer Services Manager) کے طور پر کام کرنا

(50317-No)

سوال: میرا ایک شرعی مسئلہ ہے، براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
میں پاکستان میں مشرق گلوبل سروسز لمیٹڈ (MGN Pakistan SMC Private) میں کسٹمر سروس مینیجر کے طور پر ملازم ہوں۔ یہ کمپنی Mashreq Bank UAE کو آپریشنل سروسز فراہم کرتی ہے اور میں پاکستان سے ریموٹ کام کرتا ہوں، میری ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
کسٹمر ای میل کے ذریعے Trade Transaction جمع کرواتا ہے، میں صرف یہ چیک کرتا ہوں کہ مطلوبہ تجارتی دستاویزات (جیسے Invoice، Delivery Note، Transport Documents، Certificate of Origin، Goods Details وغیرہ) مکمل ہیں یا نہیں؟ اگر کوئی دستاویز رہ گئی ہو تو میں کسٹمر سے وہ منگواتا ہوں، اس کے بعد میں فائل متعلقہ آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کو بھیج دیتا ہوں تاکہ وہ ٹرانزیکشن پروسیس کریں۔ ٹرانزیکشن مکمل ہونے پر میں کسٹمر کو اطلاع دیتا ہوں، اگرچہ سسٹم کی طرف سے بھی خودکار اطلاع چلی جاتی ہے۔ میں سود (Interest) کا حساب نہیں کرتا، سود کی شرح نہیں بتاتا، نہ کسی سودی معاہدے کی منظوری دیتا ہوں، اور نہ ہی سود سے متعلق مشورہ دیتا ہوں، یہ کام Relationship Manager یا دیگر متعلقہ شعبے کرتے ہیں، البتہ میرا کام Islamic اور Conventional Trade Finance دونوں قسم کی ٹرانزیکشنز سے متعلق ہوتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ شرعاً جائز ہے؟ اگر اس میں شرعی قباحت ہے تو کیا مجھے فوراً ملازمت چھوڑ دینی چاہیے یا جب تک متبادل حلال ملازمت نہ ملے تب تک کام جاری رکھ سکتا ہوں؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ مستند علماء کرام کی زیرنگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کرنے والے غیر سودی بینک میں ملازمت شرعأ درست ہے، لیکن سودی بینک میں ایسی ملازمت جائز نہیں، جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہو، مثلاً: سودی مصنوعات کو بیچنا یا اس کی تشہیر کرنا، سودی معاملات کی لکھت پڑھت، اس کا حساب کتاب رکھنا یا سودی معاملات میں براہِ راست مدد کرنا۔ یہ سب "تعاون علی الاثم"یعنی ناجائز کام میں معاونت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
پوچھی گئی صورت میں آپ کی ذمہ داریوں کا تعلق چونکہ اسلامک اور کنوینشنل (Conventional) دونوں طرح کے ٹریڈ فائنانس (Trade Finance) سے ہے، اس لیے جتنی تنخواہ آپ کی اسلامک ٹرانزیکشن کے حساب سے بنتی ہے، وہ حلال ہے، جبکہ سودی ٹریڈ فائنانس میں اگرچہ آپ سود (Interest) کا حساب نہیں کرتے، سود کی شرح نہیں بتاتے، نہ کسی سودی معاہدے کی منظوری دیتے ہیں، لیکن آپ کا کام چونکہ سودی قرضوں کی منظوری سے متعلق بنیادی کاموں میں معاونت پر مشتمل ہے، اس لیے وہ جائز نہیں، اس سے بچنا لازم ہے۔
لہٰذا آپ کوشش کریں کہ اپنی ذمہ داریوں کو صرف اسلامک فائنانس تک محدود کروا دیں۔ اس صورت میں آپ کی مکمل تنخواہ حلال تصور ہو گی، لیکن اگر کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو، اور فی الحال آپ کے پاس حلال آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں آپ کسی دوسری جائز ملازمت کی سنجیدہ تلاش جاری رکھتے ہوئے، اس ملازمت کو جاری رکھنے کی گنجائش ہے، نیز اس پر توبہ و استغفار بھی کرتے رہیں، اور جب اللہ تعالیٰ توفیق دے تو سودی بینکاری سے کمائی ہوئی آمدنی صدقہ کر دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدة، الایة: 2)
وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ o

تکملة فتح الملهم: (باب لعن آكل الربا و مؤکله، 619/1، ط: اشرفیة)
ومن هنا ظهر أن التوظف في البنوك الربویة لایجوز، فإن کان عمل الموظف في البنك ما یعین علی الربا، کالکتابة، أو الحساب، فذلك حرام لوجهین: الأول: إعانة علی المعصیة، والثاني: أخذ الأجرة من المال الحرام

أحكام المال الحرام للشيخ محمد تقي العثماني: (ص: 39)
أمّا إذا كانت الوظيفةُ ليس لها علاقةٌ مباشرةٌ بالعمليّات الرّبويّة، مثل الحارس أوسائق السيّارة، أو العامل على الهاتف، أو الموظّف المسئول عن صيانة البناء أوالمعدّات أو الكهرباء، أو الموظّف الّذى يتمحّض عملُه فى الخدمات المصرفيّة المُباحة، مثل تحويل المبالغ والصّرف العاجل للعُملات، وإصدار الشّيك المصرفيّ، أو حفظ مستندات الشّحن أو تحويلها من بلد إلى بلد، فلا يحرُم قبولُها إن لم يكن بنيّة الإعانة على العمليّات المحرّمة، وإن كان الاجتنابُ عنها أولى، ولايُحكم فى راتبه بالحُرمة، لما ذكرنا من التّفصيل فى الإعانة والتّسبّب، وفى كون مال البنك مختلطاً بالحلال والحرام. ويجوز التّعاملُ مع مثل هؤلاء الموظّفين هبةً أو بيعاً أو شراءً.

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment