سوال:
حضرت میرا سوال ہے کہ اگر کسی نے بچہ گود لیا ہو اور اس بچہ کو اس کی بیوی کی بھانجی کا دود پلا لیا جائے تو کیا وہ بچہ محرم ہو جائے گا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کی بیوی کی بھانجی نے اس گود لیے ہوئے بچے کو دودھ پلایا تو آپ کی بیوی کی بھانجی اس بچے کی رضاعی والدہ بن جائے گی، اور چونکہ آپ کی اہلیہ دودھ پلانے والی کی خالہ ہیں، اس لیے وہ اس بچے کی رضاعی نانی کی بہن شمار ہوں گی۔
جس طرح نسبی (حقیقی) رشتے میں نانی کی بہن محرم ہوتی ہے، اس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہوتا ہے اور اس کے ساتھ پردہ بھی نہیں ہوتا، اسی طرح رضاعی نانی کی بہن بھی محرم ہوتی ہے، اس سے بھی ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہوتا ہے اور شرعاً پردہ کرنا لازم نہیں ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحيح البخاري: (باب الشهادة على الأنساب، رقم الحدیث: 2645، ط: دار طوق النجاۃ)
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم في بنت حمزة: لا تحل لي، یحرم من الرضاع ما يحرم من النسب، هي بنت أخي من الرضاعة.
الفتاوی الھندیة: (الباب الثالث في بيان المحرمات، 273/1، ط: دار الفکر)
(الباب الثالث في بيان المحرمات) وهي تسعة أقسام (القسم الأول المحرمات بالنسب) وهن الأمهات۔۔۔۔وأما الخالات فخالته لأب وأم وخالته لأب وخالته لأم وخالات آبائه وأمهاته۔۔الخ
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی