سوال:
ایک لڑکی کی تاریخ پیدائش 16 ستمبر 1998 ہے اور ایک لڑکے کی تاریخ پیدائش 07 اگست 2002 ہے۔ یعنی لڑکی لڑکے سے 03 سال 10 ماہ اور 18 دن بڑی ہے۔ لڑکے کی عمر صرف چار (04) دن تھی کہ لڑکے کہ ماں نے اپنا دودھ ایک چھوٹے سے برتن میں تقریباً بمقدار آدھا یا پورا چمچہ نکالا اور اس میں دوائی ہمدرد کی گھٹی ملائی تاکہ لڑکے کو پلائے، اسی اثنا میں لڑکی نے اس دودھ اور دوائی کے محلول کو پینے کی کوشش کی اور لڑکے کی ماں نے فوراً لڑکی سے وہ برتن چھین لیا جس میں دودھ اور دوائی کا محلول تھا۔ لیکن اس میں سے کچھ محلول لڑکی نے پی لیا۔ میں یہ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ دودھ اور دوائی کا محلول حلق سے نیچے معدہ تک گیا ہے یا نہیں، اس دن لڑکی کی عمر 3 سال 10 ماہ اور 22 دن تھی اور لڑکے کی عمر صرف 4 دن تھی، یعنی لڑکی لڑکے سے 3 سال 10 مال 18 دن بڑی ہے۔
لڑکی کی ماں اور لڑکے کی ماں آپس میں بہنیں ہیں اور لڑکی کا باپ اور لڑکے کا باپ بھی آپس میں بھائی ہیں اب وہ لڑکی اور لڑکے کا آپس میں رشتہ کرنا چاہتے ہیں کیا ان کا آپس میں نکاح قرآن وحدیث کی روشنی میں جائز ہے یا ناجائز اس مسئلہ کا جواب دے کر ہماری راہنمائی فرمائیں۔ جزاكم الله خیرا
جواب: پوچھی گئی صورت میں چونکہ لڑکی نے تین سال سے زیادہ عمر میں یعنی مدتِ رضاعت گزرجانے کے بعد اپنی خالہ کا دودھ پیا ہے اس لیے لڑکے اور لڑکی کے درمیان حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوئی، دونوں کا آپس میں نکاح کرنا درست ہے۔
نیز اس صورت میں یہ تحقیق کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہی کہ وہ دودھ حلق سے نیچے معدے تک پہنچا یا نہیں، کیونکہ مدت گزر جانے کے بعد بہرصورت حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الهداية: (217/1، ط: دار احياء التراث العربي)
ثم مدة الرضاع ثلاثون شهرا عند أبي حنيفة رحمه الله وقالا سنتان" ... قال: "وإذا مضت مدة الرضاع لم يتعلق بالرضاع تحريم" لقوله عليه الصلاة والسلام "لا رضاع بعد الفصال" ولأن الحرمة باعتبار النشوء وذلك في المدة إذ الكبير لا يتربى به ولا يعتبر الفطام قبل المدة إلا في رواية عن أبي حنيفة رحمه الله إذا استغنى عنه ووجهه انقطاع النشوء بتغير الغذاء.
رد المحتار ط الحلبي: (209/3)
هو) لغة بفتح وكسر: مص الثدي. وشرعا (مص من ثدي آدمية) ولو بكرا أو ميتة أو آيسة، وألحق بالمص الوجور والسعوط (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان) ... لكن في الجوهرة أنه في الحولين ونصف، ولو بعد الفطام محرم
وعليه الفتوى. واستدلوا لقول الإمام بقوله تعالى {وحمله وفصاله ثلاثون شهرا} [الأحقاف: 15] أي مدة كل منهما ثلاثون غير أن النقص في الأول قام بقول عائشة: لا يبقى الولد أكثر من سنتين ومثله لا يعرف إلا سماعا، والآية مؤولة لتوزيعهم الأجل على الأقل والأكثر فلم تكن دلالتها قطعية، على أن الواجب على المقلد العمل بقول المجتهد وإن لم يظهر دليله كما أفاده في رسم المفتى.
کذا في تبویب فتاوی دار العلوم کراتشي: رقم الفتوی: (498/70)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی