سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اگر میں اپنے بیٹے کے عقیقے کے لیے دو بکرے یا بکریاں ذبح کرکے گوشت تقسیم کر دوں، اور اس کے چند دن بعد الگ سے بریانی بنوا کر رشتہ داروں کو دعوت دے دوں، تو کیا یہ عمل درست ہوگا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے عقیقے کا جانور ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کر دیا تو عقیقہ ادا ہو گیا۔ اس کے چند دن بعد الگ سے بریانی بنوا کر رشتہ داروں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (328/6، ط: دار الفکر)
والأفضل أن یتصدق بالثلث ویتخذ الثلث ضیافة لأقربائہ وأصدقائہ ویدّخر الثلث ․․․ ولو حبس الکل لنفسہ جاز، لان القربۃ فی الاراقۃ والتصدق باللحم تطوع.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی