سوال:
میری ممانی نے مجھے صرف ایک ہی مرتبہ تقریباً دو سے چار منٹ کے لیے دودھ پلایا تھا، اس وقت میری عمر تقریباً چھ سے نو ماہ کے درمیان تھی، یہ مکمل دودھ پلانا نہیں تھا، بلکہ صرف چند قطرے ہی پیے تھے، جن سے میرا پیٹ نہیں بھرا تھا۔ براہِ کرم اسی صورتحال کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا میرے لیے اپنی ماموں کی بیٹی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ اگر بچے کی عمر دو سال کے اندر ہو اور عورت کا دودھ اس کے پیٹ میں خواہ ایک مرتبہ تھوڑی سی مقدار میں پہنچ جائے، چاہے وہ صرف چند قطرے ہی ہوں اور اس سے بچے کا پیٹ نہ بھی بھرے، تب بھی رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، لہٰذا سوال میں مذکور صورت میں آپ کی ممانی آپ کی رضاعی ماں بن گئی ہیں اور ان کی بیٹی (آپ کی ماموں زاد بہن) آپ کی رضاعی بہن ہے، اس لیے آپ کا اپنی اس ممانی کی کسی بھی بیٹی سے نکاح جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: [النساء: الایة: 23]*
﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ﴾
*صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1444، ط: دار احیاء التراث العربي)*
عن عائشة قالت: « قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة ».
*«الهداية في شرح بداية المبتدي» (1/ 218، ط: دار احیاء التراث العربي)*
"وكل صبيين اجتمعا على ثدي امرأة واحدة لم يجز لأحدهما أن يتزوج بالأخرى" هذا هو الأصل لأن أمهما واحدة فهما أخ وأخت "ولا يتزوج المرضعة أحد من ولد التي أرضعت" لأنه أخوها "ولا ولد ولدها" لأنه ولد أخيه "ولا يتزوج الصبي المرضع أخت زوج المرضعة" لأنها عمته من الرضاع.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (1/ 342، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
(كتاب الرضاع) قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف كذا في السراج الوهاج.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (1/ 343، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی