عنوان: کیا گناہوں سے توبہ کرنے سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں؟ (105124-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر کوئی مسلمان زندگی میں گناہ کرتا رہے اور پھر بعد میں جب احساس ہو، تو اپنے گناہوں پر سچی توبہ کرلے، تو کیا اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ اگر انسان سچے دل سے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہے، تو اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، البتہ سچی توبہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جو حقوق اللہ (نماز روزہ وغیرہ) اور حقوق العباد (کسی کا کوئی حق ادا کرنا) ذمہ پر باقی ہیں، ان کو ادا کرے، اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے، غرض یہ کہ توبہ اس وقت قبول ہوتی ہے، جب اپنی تمام کوتاہیوں کی تلافی کی کوشش کرے، اگر فی الفور تمام کوتاہیوں کی تلافی کرنا دشوار ہو، تو اس بات کا پختہ ارادہ کرلے کہ میں تمام گناہوں کی تلافی کروں گا، اور آئندہ تمام گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کرے، تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تبارک وتعالیٰ:

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَعۡفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ۔

(سورۃ الشوریٰ آیت نمبر:25)

وفی شرح فقہ الاکبر:

ثم ہذا ان کانت التوبۃ فیما بنیہ وبین اﷲ کشرب الخمر وان کانت عما فرط فیہ من حقوق اﷲ کصلوۃ وصیام وزکوۃ فتوبتہ ان یندم علی تفریطہ اولا ثم یعزم علی ان لا یفوت ابدا ولو بتاخیر صلوۃ عن وقتہا ثم یقض مافاتہ جمیعا۔

(شرح فقہ الاکبر ص:194ط: مجتبائی دھلی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 200
kia gunahon say tauba karne say sab gunnah muaf hojatay hain?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.