عنوان: ڈاکو کی توبہ کی تکمیل کیسے ہوگی؟ (105148-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! اگر کوئی شخص ڈاکے ڈالتا ہو، اور رشوت کا مال لیتا ہو، لیکن بعد میں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگ کر توبہ کرلے، تو اس کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں؟ شریعت کا اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: مذکورہ شخص کا محض اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگ لینا، توبہ کی تکمیل کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ توبہ کی تکمیل اور قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو ان کا مال واپس کردے، جن سے بھی اس نے ناجائز طریقے سے مال لیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی المرقاۃ:

عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من حج للّٰہ فلم یرفث ولم یفسق، رجع کیوم ولدتہ أمہ، قال الملا علي القاري تحت ہٰذا الحدیث: اعلم أن ظاہر الحدیث یفید غفران الصغائر والکبائر السابقۃ؛ لکن الإجماع علی أن الکفران مختصۃ بالصغائر من السیئات التي لا تکون متعلقۃ بحقوق العباد من التبعات، فإنہ یتوقف علی إرضائہم۔

(مرقاۃ المفاتیح ج:5ص:423 تحت رقم: 2508 دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

کذا فی شرح فقہ اکبر:

وان کانت عما یتعلق بالعباد فان کانت من مظالم الاموال فیتوقف صحۃ التوبۃ منہا مع ماقد مناہ فی حقوق اﷲ علی الخراج عن عہدۃ الاموال وارضاء الخصم فی الحال او الاستقبال بان یتحلل منہم او یردہا الیہم او الی من یقوم مقامہم من وکیل او وارث۔

(شرح فقہ اکبر ص:194 بحث التوبۃ، مطبوعہ رحیمیہ دیوبند)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 236
daako ki tauba ki takmeel kese hogi?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com