عنوان: مغرب کے وقت لیٹے رہنے اور گھر کی لائٹیں جلانے کا حکم(105172-No)

سوال: حضرت صاحب ! لوگ کہتے ہیں کہ مغرب کے وقت اندھیرا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مغرب کیاذان کے دوران لیٹنا بھی نہیں چاہیے۔ کیا یہ باتیں درست ہیں؟ کیا اذانوں کے وقت اٹھ کر بیٹھ جانا چاہیے؟

جواب: (1) واضح رہے کہ اگر کوئی شخص لیٹا ہوا ہو، اور مغرب کی اذان شروع ہو جائے، تو ایسی صورت میں اٹھنے کا اہتمام اس لیے کیا جاتا ہے کہ جماعت فوت نہ ہوجائے، کیونکہ مغرب میں اذان کے بعد فوراً جماعت کھڑی ہوجاتی ہے، جبکہ دوسرے اوقات میں اذان اور جماعت کے درمیان کچھ وقفہ ہوتا ہے، نیز اذان کا جواب لیٹ کر دینا بھی جائز ہے، البتہ بیٹھ کر جواب دینا بہتر اور ادب کے موافق ہے۔

(2) مغرب کے وقت لائٹیں جلانے یا روشنی کرنے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، یہ محض توہم پرستی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلائل:

کما فی الصحیح البخاري:

عن عائشۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہا قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من أحدث في أمرنا ہٰذا ما لیس منہ فہو رد۔

(باب إذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود، رقم: 2697)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

بدعات و رسومات میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Bida'At & Customs

20 Sep 2020
01 Safar 1442

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com