سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا ایک شرعی مسئلہ ہے، براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔
میں شادی شدہ ہوں، بچپن سے لے کر آج تک میں نے اپنے والدین کے درمیان شدید اختلافات اور لڑائی جھگڑے دیکھے ہیں، ہم دونوں بھائیوں نے جوانی میں کئی مرتبہ اپنے والدین کے درمیان صلح کرانے اور حالات بہتر بنانے کی کوشش کی، لیکن کوئی مستقل بہتری نہ آسکی۔
ہم دونوں بھائیوں کی شادیوں کے بعد گھر کے بعض ایسے معاملات بھی پیش آئے جن کی وجہ سے میری والدہ کی طرف سے کچھ ایسی غلطیاں اور رویے سامنے آئے جن سے گھر کا نظام متاثر ہوا، اور ہمیں اپنی بیویوں اور سسرال والوں کے سامنے بھی کئی مرتبہ شرمندگی اٹھانا پڑی، ان معاملات کی تفصیل لکھنا مناسب نہیں سمجھتا۔
آخرکار میرے والد نے گھر کے جھگڑے کم کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ایک بیٹے کے ساتھ رہیں گے، جبکہ میری والدہ میرے ساتھ رہیں گی۔ ہم نے ایک نیا گھر اس امید کے ساتھ لیا کہ اب سکون سے زندگی گزار سکیں گے۔ ابتدا میں میری والدہ نے کچھ باتوں کا خیال رکھا، لیکن بعد میں دوبارہ وہی سابقہ رویہ اختیار کرلیا۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ میری والدہ کے رویے کی وجہ سے مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل ذہنی اذیت کا سامنا ہے، میری بیوی کے پاس بھی میری والدہ کے ساتھ نہ رہنے کی حقیقی اور مضبوط وجوہات ہیں، اس صورتِ حال کی وجہ سے میری عزت اور گھریلو زندگی بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔
دوسری طرف میرے والد نہ تو میری والدہ کو طلاق دیتے ہیں، نہ ان کا نفقہ بند کیا ہے اور نہ ہی ان کے ازدواجی حقوق ختم کیے ہیں۔ یہ صورتِ حال بیس سال سے زائد عرصے سے چلی آرہی ہے، میرے والد بھی میری والدہ کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے تیار نہیں، میرا بڑا بھائی بھی انہیں اپنے ساتھ رکھنے پر آمادہ نہیں اور میری اہلیہ بھی ان کے ساتھ رہنے پر رضامند نہیں، ایسی صورتِ حال میں میری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟
1) کیا میرے لیے ہر حال میں یہ لازم ہے کہ میں اپنی والدہ کو اپنے ہی گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ رکھوں؟
2) اگر میری بیوی میری والدہ کے ساتھ رہنے پر رضامند نہ ہو اور اس کے پاس شرعاً معتبر وجوہات بھی ہوں، تو کیا اس کا یہ مطالبہ درست ہے؟
3) کیا میں اپنی والدہ کے لیے الگ رہائش کا انتظام کرکے ان کے تمام اخراجات، خدمت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری خود اٹھا سکتا ہوں؟
4) اگر والد زندہ ہوں اور انہوں نے والدہ کو طلاق بھی نہ دی ہو، تو ایسی صورت میں والدہ کی رہائش، نفقہ اور دیکھ بھال کی بنیادی شرعی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
5) اس پوری صورتِ حال میں میرے لیے سب سے مناسب اور درست شرعی راستہ کیا ہے، تاکہ میری والدہ کے حقوق بھی ادا ہوں اور میری اہلیہ کے شرعی حقوق بھی متاثر نہ ہوں؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔
جواب: شریعتِ مطہرہ نے والدین کے حقوق اور میاں بیوی کے حقوق دونوں کو نہایت اہمیت دی ہے، اس لیے جہاں ان دونوں کے حقوق کے درمیان بظاہر تعارض پیدا ہو، وہاں توازن برقرار رکھنا، ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دینا اور حتی الامکان نزاع سے بچنا شریعت کا مطلوب ہے اور یہ ایک فرزندِ صالح کے لیے انتہائی نازک مرحلہ ہوتا ہے۔
قرآن کریم، احادیثِ مبارکہ اور فقہِ اسلامی (خصوصاً فقہ حنفی) کی روشنی میں آپ کے پوچھے گئے سوالات کے مرتب اور ترتیب وار جوابات درج ذیل ہیں:
(1) نہیں، بیٹے پر یہ شرعاً لازم نہیں ہے کہ وہ اپنی والدہ کو زبردستی اپنے ہی گھر میں اور اپنی بیوی کے ساتھ ہی رکھے۔ اسلام نے اولاد پر والدین کی خدمت، حسنِ سلوک، مالی تعاون اور ان کی دیکھ بھال کو فرض قرار دیا ہے، لیکن اس بات کی کوئی قید نہیں لگائی کہ خدمت صرف اسی صورت میں قبول ہوگی جب والدہ اسی چھت کے نیچے اور اسی گھر میں رہیں جہاں بیوی رہتی ہے۔
اگر ایک ہی گھر میں رکھنے سے فتنے، باہمی لڑائی جھگڑے، گناہ اور حقوق کی تلفی کا اندیشہ ہو، تو شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی صورتِ حال سے بچا جائے۔
(2) اگر ساس یا گھر کے کسی اور فرد کی موجودگی کی وجہ سے بیوی کو مسلسل جسمانی یا ذہنی اذیت کا سامنا ہو، اس کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہو یا اسے شرعی و قانونی نقصان کا خطرہ ہو تو بیوی کو شرعاً حق حاصل ہے کہ وہ شوہر سے الگ رہائش کا مطالبہ کرے۔ چونکہ آپ کی بیوی کے پاس اس کے بقول معتبر وجوہات موجود ہیں، لہٰذا اس کا الگ رہائش کا مطالبہ شرعاً درست اور جائز ہے۔
(3) بالکل، آپ یہ کر سکتے ہیں اور یہ آپ کی طرف سے ایک بہترین اور اعتدال پسند قدم ہوگا۔ اگر آپ اپنی والدہ کے لیے (اپنے گھر کے قریب ہی) کسی دوسری جگہ یا الگ پورشن/فلیٹ میں رہائش کا انتظام کر دیں، ان کے کھانے پینے اور روزمرہ کے تمام اخراجات خود برداشت کریں، اور روزانہ کی بنیاد پر یا وقتاً فوقتاً خود جا کر ان کی خبرگیری اور خدمت کریں، تو اس سے آپ پر والدہ کی نافرمانی کا کوئی گناہ نہیں آئے گا۔
یاد رکھیے! والدہ کو الگ گھر میں رکھنے کا مقصد ان سے قطع تعلقی یا ان کی توہین کرنا نہیں، بلکہ گھریلو ناچاقی، فتنہ اور حقوق کی پامالی سے بچنا ہے۔ اگر آپ ان کے قریب ہی رہائش رکھیں اور ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھیں، تو آپ اپنی فرماں برداری کا حق بخوبی ادا کر رہے ہوں گے۔
(4) شریعتِ مطہرہ کے اصول کے مطابق، جب تک نکاح کا رشتہ برقرار ہے اور بیوی (والدہ) کو طلاق نہیں دی گئی، تب تک اس کا نفقہ، رہائش اور تمام ضروریات کی فراہمی صرف اور صرف شوہر (یعنی آپ کے والد) پر فرض ہے۔ اولاد پر والدہ کا نفقہ اس وقت لازمی ہوتا ہے جب والدہ مطلقہ ہوں، یا شوہر (والد) کا انتقال ہو چکا ہو، یا والد بالکل نادار اور مفلس ہوں اور اولاد صاحبِ استطاعت ہو۔
چونکہ آپ کے والد حیات ہیں، انہوں نے والدہ کو طلاق بھی نہیں دی اور وہ مالی یا جسمانی طور پر نفقہ اٹھانے سے بالکل عاجز بھی نہیں ہیں (جیسا کہ آپ نے ذکر کیا کہ انہوں نے نفقہ بند نہیں کیا)، لہٰذا شرعی طور پر آپ کی والدہ کی بنیادی رہائش اور نفقہ کی قانونی و شرعی ذمہ داری آپ کے والد پر ہی عائد ہوتی ہے، نہ کہ آپ پر۔
(5) آپ اور آپ کی گھریلو زندگی کے سکون کے لیے مندرجہ ذیل حکمتِ عملی سب سے بہترین اور متوازن شرعی راستہ ہے:
الف) والدہ کے لیے الگ اور قریب رہائش کا انتظام: آپ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی والدہ کے لیے آپ کے موجودہ گھر کے قریب ہی کسی مناسب جگہ پر الگ رہائش کا بندوبست کریں۔ اس فلیٹ یا گھر کا کرایہ اور تمام یوٹیلیٹی بلز آپ ادا کریں۔ (اگرچہ شرعاً والد کی ذمہ داری ہے، لیکن خاندانی وقار اور صلحِ رحمی کی خاطر آپ اپنی خوشی سے یہ بوجھ اٹھا لیں)۔
ب) والدہ کا نفقہ اور ضروریات: کھانے پینے کا راشن، ادویات اور دیگر تمام ضروریات آپ خود اپنے ذمے لیں۔
ج) روزانہ کی خدمت اور حسنِ سلوک: چونکہ والدہ الگ رہ رہی ہوں گی، اس لیے اب آپ کا یہ فرض مؤكد بن جاتا ہے کہ آپ روزانہ ان کے پاس جائیں، ان کا حال پوچھیں، ان کی خدمت کریں، ان کے پاس بیٹھ کر دل جوئی کی باتیں کریں اور انہیں بالکل بھی احساس نہ ہونے دیں کہ انہیں اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا(لقمان: 15) "اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے نباہ کرو۔"ّ
د) بیوی اور بچوں کے حقوق کی حفاظت: جب والدہ الگ رہائش پر ہوں گی تو آپ کی بیوی کو بھی ایک پرسکون ماحول مل جائے گا، جس سے گھر میں بلاوجہ کے روزمرہ کے جھگڑے ختم ہو جائیں گے اور آپ اپنی اہلیہ کو اس کا شرعی حقِ سکونت دے سکیں گے۔
ہ) والد سے باضابطہ گفتگو یا مشورہ: اگر ممکن ہو تو اپنے والد سے نرمی کے ساتھ بات کریں (یا کسی باوقار بزرگ کے ذریعے بات چیت کروائیں) کہ چونکہ والدہ اب آپ کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہو پا رہیں اور گھر کا ماحول خراب ہو رہا ہے، اس لیے آپ والدہ کے لیے الگ مکان کا کرایہ اور خرچہ اٹھانے کو تیار ہیں، تاکہ سب اپنے اپنے دائرے میں سکون سے رہ سکیں۔ والد صاحب اگر اس پر راضی ہوں یا خاموشی سے اس کی اجازت دے دیں تو یہ معاملہ بہت اچھے طریقے سے حل ہو جائے گا۔
خلاصہ:
والدہ کو ایک ہی چھت کے نیچے زبردستی رکھنا شریعت کا تقاضا نہیں ہے اگر اس سے حقوق کی تلفی اور گناہ کا اندیشہ ہو۔ آپ والدہ کے لیے قریب میں الگ رہائش کا انتظام کریں، ان کے مالی اخراجات اٹھائیں اور خود کثرت سے ان کی خدمت اور زیارت کے لیے جائیں۔ اس طرح آپ والد کے سامنے ذمہ داری سے سبکدوش بھی ہو جائیں گے، والدہ کی خدمت کا فریضہ بھی ادا ہوتا رہے گا اور بیوی کے حقوق بھی پامال نہیں ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 601،دارالفکر)
ولو أراد أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأمه وأخته وبنته فأبت فعليه أن يسكنها في منزل منفرد؛ لأن إباءها دليل الأذى والضرر ولأنه محتاج إلى جماعها ومعاشرتها في أي وقت يتفق لا يمكن ذلك مع ثالث؛ حتى لو كان في الدار بيوت وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا ليس لها أن تطالبه بآخر. اه فهذا صريح في أن المعتبر عدم وجدان أحد في البيت لا في الدار.
﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾(سورۃ الإسراء: 23)
﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾(سورۃ لقمان: 15)
فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 386،دار الفكر)
قال في الأصل: نفقة المرأة واجبة على الزوج وإن مرضت أو جنت أو أصابها بلاء يمنع عن الجماع أو كبر حتى لا يستطاع جماعها. وفي شرح الطحاوي: إذا كبرت ولا تطيق الجماع أو بها رتق يمنع الجماع أو قرن كان لها النفقة.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 224،دار الكتاب الإسلامي)
ومراد المصنف من إيجاب نفقة الأم على الولد إذ لم تكن متزوجة؛ لأنها على الزوج كبنته المراهقة إذا زوجها صارت نفقتها على زوجها وقدمنا أن الزوج لو كان معسرا فإن الابن يؤمر بأن يقرضها، ثم يرجع عليه إذا أيسر، وقد صرح به في الذخيرة...... فإن أبى الابن أن يقرضها النفقة فرض لها عليه النفقة وتؤخذ منه وتدفع إليها؛ لأن الزوج المعسر بمنزلة الميت وأشار المصنف بقوله ولأبويه إلى أن الاعتبار في وجوب نفقة الوالدين والمولدين إنما هو القرب والجزئية ولا يعتبر الميراث، قالوا وإذا استويا في القرب تجب على من له نوع رجحان، وإذا لم يكن لأحدهما رجحان فحينئذ تجب النفقة بقدر الميراث.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 397،دارالفکر)
(وعلى الزوج أن يسكنها في دار مفردة ليس فيها أحد من أهله إلا أن تختار ذلك) لأن السكنى من كفايتها فتجب لها كالنفقة، وقد أوجبه الله تعالى مقرونا بالنفقة، وإذا وجب حقا لها ليس له أن يشرك غيرها فيه لأنها تتضرر به، فإنها لا تأمن على متاعها، ويمنعها ذلك من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع، إلا أن تختار لأنها رضيت بانتقاص حقها.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی