سوال:
میں سیالکوٹ پاکستان کا رہنے والا ہوں اور پاکستان سے روزگار کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات آیا ہوں۔ الحمدللہ، میرے دو بیٹے ہیں۔
میری بیوی نے مجھ سے علیحدگی کا مطالبہ کیا، اس کے مطالبے پر میں نے ایک ہی گھر کے اوپر والا پورشن اس کے لیے مکمل طور پر الگ کر دیا اور اس کی رہائش کی ضروریات بھی الگ کر دیں۔
اب جب میں UAE سے واپس گھر آیا ہوں تو میری بیوی نے مزید کچھ شرائط رکھ دی ہیں، وہ کہتی ہے کہ میں اپنی والدہ کو ہفتے میں صرف دو مرتبہ فون کروں اور اپنے بہن بھائیوں سے صرف خوشی یا غمی کے موقع پر رابطہ رکھوں، اس کے علاوہ میں اپنی والدہ اور بہن بھائیوں سے بات نہ کروں، وہ کہتی ہے کہ اگر میں اس کی یہ بات نہیں مانوں گا تو وہ مجھ سے خلع لے لے گی۔
میری بیوی میرے دونوں بچوں سے بھی میری فون پر بات نہیں کروا رہی اور نہ ہی خود مجھ سے بات کر رہی ہے، وہ کہتی ہے کہ وہ مجھے بچوں سے بھی صرف ہفتے میں دو مرتبہ بات کروائے گی۔
میرا سوال یہ ہے:
1) کیا اسلام میں بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شوہر کو اس کی والدہ سے بات کرنے سے روکے یا فون کالز کی تعداد مقرر کرے؟
2) کیا بیوی شوہر کو اس کے بہن بھائیوں اور دوسرے قریبی رشتہ داروں سے تعلق رکھنے سے روک سکتی ہے؟
3) کیا بچوں کو ان کے والد سے فون پر بات کرنے سے روکنا یا صرف ہفتے میں دو مرتبہ بات کروانا شرعاً جائز ہے؟
4) اگر بیوی ان باتوں کو نہ ماننے کی صورت میں خلع لینے کی دھمکی دے تو شوہر کو اسلام کی روشنی میں کیا کرنا چاہیے؟
5) میں نے اس کے مطالبے پر ایک ہی گھر کا اوپر والا پورشن مکمل طور پر الگ کر دیا ہے۔ کیا اس طرح اس کے علیحدگی کے مطالبے کو پورا کرنا شرعاً کافی ہے یا میرے اوپر مزید کوئی ذمہ داری ہے؟
6) اگر بیوی شوہر کو اس کی والدہ اور بہن بھائیوں سے تعلق رکھنے سے روکے تو اس صورت میں اسلام کا کیا حکم ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں کہ اس صورتِ حال میں میرے لیے شرعاً کیا طریقہ اختیار کرنا بہتر ہے اور بچوں کے حوالے سے میرے کیا حقوق اور ذمہ داریاں ہیں؟ اگر میری طرف سے بھی کوئی غلطی یا کوتاہی ہو رہی ہو تو براہِ کرم اس کی بھی نشاندہی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: پوچھی گئی صورت میں بیوی کے لیے شوہر کو اس کی والدہ اور دیگر رشتہ داروں سے تعلق رکھنے یا فون پر بات کرنے سے روکنا جائز نہیں۔ اسی طرح بچوں کو ان کے والد سے بات کرنے سے روکنا بھی درست نہیں۔ شوہر پر لازم ہے کہ اپنی والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی کرے، نیز بیوی کے ساتھ بھی حسنِ معاشرت اور اس کے شرعی حقوق کی رعایت ضروری ہے۔ اگر بیوی کو الگ رہائش کی ضرورت ہو تو شوہر نے اوپر کا پورشن الگ کرکے اس کی رہائش کا الگ انتظام کیا ہے، اس کے بعد مزید علیحدگی کا مطالبہ درست نہیں۔
اس پوری صورتِ حال میں شوہر کو چاہیے کہ حکمت اور نرمی سے معاملہ حل کرنے کی کوشش کرے اگر اس طرح معاملہ حل نہ ہو تو دونوں خاندانوں کے سمجھدار افراد کے ذریعے باہمی صلح کی کوشش کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الكريم: (النساء، الآيات: ٣٤-٣٥)*
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا ۚ إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا ●﴾
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی