سوال:
ماضی میں مجھ سے کئی مرتبہ گھر والوں اور بعض دوسرے لوگوں کے پیسے ان کی اجازت کے بغیر لے لیے گئے، اب مجھے اپنی غلطی پر بہت افسوس ہے اور میں سچی توبہ کرنا چاہتی ہوں۔
مجھے یاد ہے کہ کن کن لوگوں سے پیسے لیے تھے، لیکن مجھے صحیح رقم بالکل یاد نہیں، یہ بھی معلوم نہیں کہ مجموعی طور پر کتنی رقم بنتی ہے۔ صرف اتنا اندازہ ہے کہ شاید رقم کافی زیادہ ہو، فی الحال میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ میں سب کا حق ایک ساتھ واپس کرسکوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ شریعت کی رو سے مجھے اب کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں ہر شخص کے لیے جتنا معقول اندازہ لگا سکوں، اتنی رقم واپس کردوں؟ اگر اصل رقم بالکل یاد نہ ہو تو اس صورت میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ کیا میں انہیں بتائے بغیر ان کی رقم واپس کرسکتی ہوں؟ اور اگر فی الحال میرے پاس پیسے نہ ہوں تو کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے اور میں بعد میں آہستہ آہستہ ان کا حق ادا کرسکتی ہوں؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکورہ غلطی پر افسوس اور توبہ و استغفار کی توفیق کا مل جانا بہت بڑی سعادت کی بات ہے، البتہ لوگوں کی اجازت کے بغیر لیے گئے پیسوں کے متعلق مزید یکسوئی کے ساتھ غور و فکر کیا جائے، اس کے باوجود اگر کوئی حتمی نتیجہ حاصل نہ ہو، اور نہ ہی حتمی نتیجے تک پہنچنے کی کوئی اور صورت ہو تو غالب گمان کے مطابق ہر شخص کی جتنی رقم بنتی ہو، اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔
البتہ اس صورت میں اگر فی الحال پیسوں کی ادائیگی کی ترتیب نہ بن سکتی ہو تو آہستہ آہستہ بھی ادا کرنے کی گنجائش ہے، اور ایسی صورت میں ان شاء اللہ توبہ کی قبولیت بھی نصیب ہوگی، بشرطیکہ صدقِ دل سے توبہ کی جائے، اور لوگوں کے حق کی ادائیگی کا پختہ عزم رکھا جائے۔
نیز اگر متعلقہ لوگوں سے مذکورہ معاملے کی وضاحت کرنے کی صورت میں فتنہ و فساد کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں وضاحت کیے بغیر بھی پیسے لوٹانے کی گنجائش ہے، البتہ اگر غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے مناسب انداز میں وضاحت کردی جائے، اور زندگی میں ان کے حق کی عدمِ ادائیگی کے متعلق معافی کی درخواست کر دی جائے، تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*القرآن الکریم: (التحریم، الآیۃ: 8)*
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
*تفسیر البیضاوی: (225/5، ط: دار احیاء التراث العربی)*
سئل علي رضي الله تعالى عنه عن التوبة فقال: يجمعها ستة أشياء على الماضي من الذنوب الندامة، وللفرائض الإعادة، ورد المظالم، واستحلال الخصوم، وأن تعزم على أن لا تعود، وأن تربي نفسك في طاعة الله كما ربيتها في المعصية.
*شرح النووی علی مسلم: (باب التوبۃ، 25/17، ط: دار احیاء التراث العربی)*
قال أصحابنا وغيرهم من العلماء للتوبة ثلاثة شروط أن يقلع عن المعصية وأن يندم على فعلها وأن يعزم عزما جازما أن لايعود إلى مثلها أبدا فإن كانت المعصية تتعلق بآدمي فلها شرط رابع وهو رد الظلامة إلى صاحبها أو تحصيل البراءة منه.
*الدر المختار: (92/5، ط: دار الفكر)*
والأصل أن المستحق بجهة إذا وصل إلى المستحق بجهة أخرى اعتبر واصلا بجهة مستحقة إن وصل إليه من المستحق عليه، وإلا فلا، وتمامه في جامع الفصولين.
*وفيه أيضاً: (182/6)*
في البزازية غصب دراهم إنسان من كيسه ثم ردها فيه بلا علمه برئ وكذا لو سلمه إليه بجهة أخرى كهبة أو إيداع أو شراء.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی