سوال:
سوال یہ ہے کہ کیا موبائل کال کی ریکارڈنگ کر سکتے ہیں؟ بعض مرتبہ سامنے والے کو پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی کال کی ریکارڈنگ ہو رہی ہے کیا اس کی اجازت لینا چاہیے؟ کچھ لوگ اسے گناہ کبیرہ کہتے ہیں۔
اگر کوئی شخص جھوٹ بولتا ہو اور اپنی بولی ہوئی بات کو مانتا نہ ہو کہ میں نے یہ بات بولی ہی نہیں تو کیا ایسے شخص کی ریکارڈنگ کرنا درست ہے؟
جواب: واضح رہے کہ کسی کی کال یا گتفگو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنا درست نہیں ہے، البتہ اس کے گناہِ کبیرہ ہونے یا نہ ہونے کا تعلق مختلف حالات و واقعات کے اعتبار سے مختلف ہوسکتا ہے۔
تاہم ضرورت کی صورت اس حکم سے مستثنیٰ ہے، اگر کوئی شخص جھوٹ بولتا ہو، اپنی کہی ہوئی بات سے انکار کرتا ہو اور اس کی گفتگو کو محفوظ کرنا اپنے کسی شرعی حق کے تحفظ، ظلم سے بچاؤ یا کسی اہم معاملے کے ثبوت کے لیے ضروری ہو تو ضرورت کی حد تک مناسب موقع پر حسبِ ضرورت استعمال کے لیے اس کی گفتگو ریکارڈ کرنے کی گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (الحجرات، الآية: ١٢)
﴿وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۔۔۔ ●﴾
سنن أبي داود: (7/ 231، رقم الحديث: 4868-4869، ط: دار الرسالة العالمية)
(4868) - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا ابن أبي ذئب، عن عبد الرحمن بن عطاء، عن عبد الملك بن جابر بن عتيك، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا حدث الرجل بالحديث ثم التفت فهي أمانة».
(4869) - حدثنا أحمد بن صالح، قال: قرأت على عبد الله بن نافع، أخبرني ابن أبي ذئب، عن ابن أخي جابر بن عبد الله، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المجالس بالأمانة إلا ثلاثة مجالس: سفك دم حرام، أو فرج حرام، أو اقتطاع مال بغير حق».
سنن ابن ماجه: (3/ 432، رقم الحديث: 2341، ط: دار الرسالة العالمية)
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن جابر الجعفي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ضرر ولا ضرار».
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی