سوال:
حضرت والا! مسئلہ یہ ہے کہ ایک گھر میں دو بھائی ہیں، دونوں ہی والدین کے بہت خدمت گزار ہیں، ابھی جب بڑے بھائی باہر چلے گئے تو ان کی اہلیہ اپنے گھر چلی گئی، کیونکہ ساس بہت پریشان کرتی ہیں اور اصلاح کی جگہ شکایت اور نفرت بھرتی ہیں، پرائیویسی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، حتیٰ کہ اگر بہو گھر پر بھی بات کرے تو آ کر سنتی ہیں یا پھر انہیں پوری رپورٹ چاہیے۔
بڑی بہو کچھ عرصے سے ذہنی مریضہ بن گئی ہیں، الغرض ساری ذمہ داری بڑے بیٹے کی ہی ہے، چھوٹے بھائی کوئی ذمہ داری نہیں لیتے ہیں، ہر طرح کا بوجھ بھی بڑے بھائی کے ہی کندھوں پر ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اب والدین کو اکیلا چھوڑا نہیں جا سکتا تو ان کی خدمت کیسے کی جائے جبکہ بڑے بھائی انڈیا سے باہر جاب پر ہیں؟ براہِ مہربانی اس مسئلے کی نزاکت کو سمجھ کر دین کی روشنی میں کوئی حل نکال دیں ، تاکہ والدین اور اہلیہ دونوں کی حق تلفی نہ ہو ۔
جواب: والدین کی خدمت اور ان کے حقوق کی ادائیگی اولاد کی شرعی ذمّہ داری ہے، لیکن اس کے ساتھ بیوی کے بھی شرعی حقوق ہیں اور شوہر پر یہ لازم نہیں کہ وہ اپنی اہلیہ کو ایسے ماحول میں رہنے پر مجبور کرے جہاں اسے مسلسل اذیت یا ذہنی پریشانی کا سامنا ہو۔
لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں مناسب طریقہ یہ ہے کہ والدین کی خدمت کے لیے کوئی قابلِ اعتماد انتظام کیا جائے، اگر چھوٹا بھائی یا دیگر اولاد استطاعت رکھتے ہوں تو وہ بھی والدین کی خدمت میں اپنا حصہ ادا کریں اور خود کو ان کی خدمت یا معاملات سے الگ تھلگ نہ سمجھیں، بڑے بھائی کو چاہیے کہ وہ بھی مالی تعاون، ضروری اخراجات اور دیگر ممکنہ ذرائع سے والدین کی خدمت کا اہتمام جاری رکھیں اور اگر ضرورت ہو تو کسی خادمہ یا قابلِ اعتماد شخص کا انتظام کریں اور ہمیشہ ان کے لیے دعاؤں کا اہتمام کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (الإسراء، الآیة: 23، 24)
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا o وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا o
صحيح البخاري: (رقم الحديث: 1974، 39/3، ط: دار طوق النجاة)
حدثنا إسحاق: أخبرنا هارون بن إسماعيل: حدثنا علي: حدثنا يحيى قال: حدثني أبو سلمة قال: حدثني عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث، يعني: إن لزورك عليك حقا، وإن لزوجك عليك حقا، فقلت: وما صوم داود؟ قال: نصف الدهر.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی