سوال:
السلام علیکم، احادیث میں رشتے داروں اور عزیزوں کے بہت حقوق بیان کئے گئے ہیں، جب کوئی رشتے دار ہمارے گھر بطور مہمان آ ئے تو شریعت کی رو سے کتنے دن تک ہم ان کا خصوصی اکرام کریں گے؟
جواب: واضح رہے کہ دین اسلام میں آنے والے مہمان کی عزت و اکرام کرنا، اس کی خاطر مدارت کرنا اور اس کے آنے پر خوشی کا اظہار کرنا پسندیدہ ترین اعمال میں سے ہے، رسول ﷺ نے اپنی حدیث میں مسلمانوں کو مہمان نوازی کی اہمیت سمجھانے کے لیے اسے ایمان کے ساتھ ملادیا ہے، حدیث نبوی ہے: "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے" (صحیح بخاری: 6018)
دین اسلام اعتدال کا اعلی ترین نمونہ ہے، اس کے احکامات ہر طرح کے افراط و تفریط سے پاک ہیں، لہذا اسلام نے جہاں مہمان کے حقوق بیان کیے ہیں اور اس کی خاطر مدارت کی تلقین کی ہے، وہیں مہمان کے لیے بھی قابلِ عمل اصول وضع کیے ہیں تاکہ اس کی وجہ سے میزبان کسی قسم کی تکلیف اور مشقت میں مبتلاء نہ ہو، بخاری شریف ہی کی ایک دوسری حدیث میں ہے: "ابو شریح کعبی سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺنے فرمایا: "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے اپنے مہمان کی عزت کرنا چاہیے۔ اس کی خاطر داری بس ایک دن اور رات کی ہے، اور مہمان نوازی تین دن تک ہے، اس کے بعد جو ہو وہ صدقہ ہے اور مہمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے پاس اتنے دن ٹھہر جائے کہ اسے تنگ کرڈالے"۔ (صحیح بخاری: 6135)
مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رشتہ دار مہمان کے آنے پر ایک دن ایک رات تک اپنی عام عادت سے بڑھ کر اس کے لیے خصوصی کھانا تیار کرنا چاہیے، اس کو احادیث مبارکہ میں "جائزہ" یعنی انعام قرار دیا گیا ہے، ایک دن اور رات کے بعد اگر مہمان ٹہرا رہے تو تیسرے دن تک اس کی مہمان نوازی کا خیال رکھنا چاہیے، البتہ تین دن کے بعد مہمان نوازی ختم ہو جاتی ہے، اب اگر اس کے ٹہرے رہنے سے میزبان کو تکلیف نہیں ہورہی ہو تو وہ گھر کے ایک فرد کی طرح رہ سکتا ہے، اور اگر اس کے مزید ٹہرنے سے میزبان کو تکلیف اور تنگی ہورہی ہو تو حدیث کے مطابق مہمان کو میزبان پر بوجھ بننے کے بجائے اپنے رہنے کا مستقل انتظام کرلینا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 6018، ط: دار طوق النجاۃ)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.
صحيح البخاري: (رقم الحديث: 6135، 32/8، ط: دار طوق النجاة)
عن أبي شريح الكعبي: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه، جائزته يوم وليلة، والضيافة ثلاثة أيام، فما بعد ذلك فهو صدقة، ولا يحل له أن يثوي عنده حتى يحرجه۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی