سوال:
السلام علیکم! امید کرتا ہوں کہ آپ سب احباب خیریت سے ہوں گے۔ حضرت! عرض یہ ہے کہ کیا بلیوں پر پانی ڈالنا یا انہیں اس طرح تنگ کرنا کہ وہ گھر میں داخل نہ ہوں، شرعاً منع ہے؟
جواب: بلی یا کسی بھی جانور کو بلا وجہ تکلیف دینا یا ستانا شرعاً گناہ ہے، البتہ اگر کوئی جانور تنگ کرے یا تکلیف پہنچائے تو بقدرِ ضرورت اپنے آپ کو اس تکلیف سے بچانا جائز ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بلی کو گھر یا کمرے میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے پہلے اسے ڈرا کر بھگا دیا جائے اور اگر اس سے بھی نہ جائے اور تنگ کرے تو دفعِ ضرر کی خاطر بقدرِ ضرورت اس پر پانی ڈال کربھگانا جائز ہوگا، بشرطیکہ اسے بھگانا مقصود ہو، ستانا یا تنگ کرنا مقصود نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل
*الدر المختار مع رد المحتار: (6/ 752، ط: دار الفکر)*
وجاز قتل ما يضر منها ككلب عقور وهرة) تضر (ويذبحها) أي الهرة (ذبحا) ولا يضر بها لأنه لا يفيد.
*الهداية: (4/ 350، ط: دار احیاء التراث العربي)*
وهذا لأن في جميع ذلك وفي قطع الرأس زيادة تعذيب الحيوان بلا فائدة وهو منهي عنه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی