resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: فیملی پکنک کے مشترکہ فنڈ سے انعامات اور تفریحی سرگرمیوں کا شرعی حکم

(64701-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! ہمارے کچھ مسلمان بھائی ہر سال ایک فیملی پکنک کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں خاندان اپنی شرکت کے لیے طے شدہ شرح (کنٹری بیوشن فیس) ادا کرتے ہیں۔ فیس جمع کرواتے وقت شرکاء کی طرف سے انتظامیہ کو یہ اختیار اور اجازت حاصل ہوتی ہے کہ وہ اس رقم کو پکنک کی مناسبت سے جہاں بہتر سمجھیں، خرچ کریں۔
اس فیملی پکنک کے دوران مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے مختلف تفریحی اور جسمانی سرگرمیوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ خواتین کے حصے میں خواتین ہی کی زیرِ نگرانی مخصوص کھیل رکھے جاتے ہیں، مثلاً تکیہ ایک دوسرے کو تھمانا (Pillow Passing) یا میوزیکل چیئر کے طرز پر کرسیوں پر بیٹھنے کا کھیل (Chair Sitting Game)۔ اس دوران اسپیکر پر ساز و موسیقی سے پاک اسلامی نظمیں یا ترانے (Nasheeds) چلائے جاتے ہیں اور وقفے وقفے سے انہیں روکا جاتا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں کے تجربے کے مطابق ان سرگرمیوں میں محض قسمت کے بجائے مہارت اور حاضر دماغی رکھنے والی خواتین ہی اول و دوم آتی ہیں۔
پروگرام کے اختتام پر بچوں، مردوں اور خواتین کی مختلف سرگرمیوں میں اول اور دوم آنے والوں کو انتظامیہ کی جانب سے چھوٹے تحائف اور انعامات دیے جاتے ہیں۔
پروگرام کے مالیاتی اصول درج ذیل ہیں:
1) انعامات: چندے کی رقم سے بچوں اور مختلف مقابلوں کے فاتحین کے لیے تحائف خریدے جاتے ہیں۔
2) بچ جانے والی رقم: پروگرام کے بعد اگر کوئی رقم بچ جائے تو انتظامیہ کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اسے اپنے پاس محفوظ رکھے اور آئندہ کے پروگراموں میں استعمال کرے۔
3) رضاکارانہ خدمت: انتظامیہ کوئی ذاتی منافع حاصل نہیں کرتی، نیز والدین اور ساس سسر کو اعزازی طور پر بلا فیس شرکت کی اجازت ہوتی ہے۔
استفسار یہ ہے کہ:
1) کیا اجتماعی چندے سے اس قسم کی تفریحی پکنک کا انعقاد کرنا شرعاً جائز ہے؟
2) کیا خواتین کے لیے پردے کے اندر اس نوعیت کے کھیلوں (Pillow Passing، Chair Sitting) کا انعقاد کرنا اور اس میں وقفے کے لیے بغیر ساز کے اسلامی نظمیں سننا جائز ہے؟
3) کیا مشترکہ چندے کی رقم سے مختلف کھیلوں میں اول و دوم آنے والوں کو تحائف دینا "قمار" (جوا) کے دائرے میں آئے گا یا یہ جائز تبرع اور حوصلہ افزائی کی صورت ہے؟
4) کیا انتظامیہ کے لیے پیشگی شرط کے تحت بچ جانے والی رقم کو آئندہ کے پروگراموں کے لیے رکھنا شرعاً درست ہے؟ برائے مہربانی شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔

جواب: بشرطِ صحتِ واقعہ، پوچھی گئی صورت میں مذکورہ فیملی پکنک کے انتظام، شرکاء سے فیس وصول کرنے، خواتین کے لیے مخصوص کھیل منعقد کرنے، فاتحین کو انعامات دینے، بچ جانے والی رقم آئندہ کے لیے محفوظ رکھنے اور بزرگوں کو بلا فیس شریک کرنے کے متعلق شرعی حکم درج ذیل ہے:
1) شرکاء سے فیس وصول کرکے مشترکہ طور پر پکنک کے اخراجات برداشت کرنا
چند افراد یا خاندانوں کا باہمی رضامندی سے ایک مقررہ رقم جمع کرکے کسی جائز تفریح، سفر یا ضیافت کے اخراجات برداشت کرنا شرعاً جائز ہے۔ فقہاء نے اس نوعیت کے باہمی مشترکہ اخراجات کو ’’ناهدہ‘‘ کے ضمن میں ذکر کیا ہے، جس میں باہمی رضامندی کے ساتھ مشترکہ طور پر اخراجات کرنا جائز ہے۔ اسی طرح خاندانوں یا افراد کی تعداد کے اعتبار سے فیس میں کچھ فرق رکھا جائے تو باہمی رضامندی کی صورت میں اس میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔
2) خواتین کے لیے مخصوص کھیل اور تفریحی سرگرمیاں
خواتین کے لیے چیئر سیٹنگ (Chair Sitting)، پلو پاسنگ (Pillow Passing) اور اس نوعیت کے دیگر مباح کھیل بذات خود جائز ہیں، بشرطیکہ ان میں کوئی شرعی ممانعت شامل نہ ہو، بالخصوص درج ذیل امور کا اہتمام ضروری ہے:
(الف) خواتین کی سرگرمیاں مکمل پردے اور ستر کے شرعی تقاضوں کے ساتھ ہوں۔
(ب) نامحرم مردوں کا اختلاط یا ان کی نگاہوں کے سامنے خواتین کی سرگرمیوں کا ہونا نہ ہو۔
(ج) خواتین کی تصاویر یا ویڈیوز بنانا اور انہیں نامحرموں تک پہنچانا نہ ہو۔
(د) کھیل کے دوران موسیقی اور آلاتِ لہو استعمال نہ کیے جائیں۔
اگر تفریح کے لیے انسانی آواز میں حمد، نعت یا ایسے مباح اور پاکیزہ اشعار و ترانے ہوں جن میں شرعاً ممنوع مضامین نہ ہوں اور ان کے ساتھ آلاتِ موسیقی بھی نہ ہوں تو ان کی گنجائش ہے۔
3)کھیلوں کے فاتحین کو انعام دینے کا حکم
پوچھی گئی صورت میں پکنک کے لیے جو فیس وصول کی جاتی ہے، وہ کسی کھیل میں جیتنے یا ہارنے کے لیے داؤ کے طور پر نہیں ہوتی، بلکہ پکنک کے مجموعی اخراجات، مثلاً: مقام کے کرایہ، کھانے پینے اور دیگر انتظامی ضروریات کے لیے ہوتی ہے، شرکاء اپنی فیس کے بدلے پکنک کی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں، خواہ وہ کسی کھیل میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں۔
لہٰذا اگر انتظامیہ اس مشترکہ فنڈ سے ایک مناسب مقدار بچوں یا دیگر شرکاء کے لیے انعامات خریدتی ہے، اور کھیل میں شرکت کرنے والوں کی رقم کو جیتنے والے کے لیے داؤ کے طور پر نہ لگائی گئی ہو تو یہ صورت قمار اور جوئے کے حکم میں نہیں ہوگی، بلکہ بطور انعام و اکرام ہوگی۔
قمار کی ممنوع صورت وہ ہے جس میں فریقین یا شرکاء کا مال جیت اور ہار کے خطرے میں لگا ہو، یعنی ایک کا مال دوسرے کے لیے نفع اور دوسرے کے لیے نقصان کا ذریعہ بنے، جبکہ پوچھی گئی صورت میں جو شخص کھیل ہارتا ہے، اس کی جمع شدہ فیس ضائع نہیں ہوتی، بلکہ وہ بھی پکنک کی دیگر سہولیات اور کھانے وغیرہ سے مستفید ہوتا ہے، لہٰذا مذکورہ طریقے کے مطابق پکنک کے عمومی فنڈ سے فاتحین کو انعامات دینا جائز ہے، بشرطیکہ انعام کی رقم شرکاء کے درمیان جیت ہار کے داؤ کے طور پر نہ رکھی گئی ہو۔
4)پروگرام کے بعد بچ جانے والی رقم کا حکم
پکنک کے لیے شرکاء سے جمع کی گئی رقم چونکہ مخصوص مقصد کے لیے جمع کی گئی ہے، اس لیے اصل اصول یہ ہے کہ جو رقم اس مقصد پر خرچ ہونے کے بعد بچ جائے، اسے انتظامیہ اپنی ذاتی ملکیت قرار نہیں دے سکتی؛ بلکہ اس کے مصرف کا تعین شرکاء کی اجازت اور رضامندی کے مطابق ہوگا۔
البتہ اگر فیس جمع کرواتے وقت یعنی شرکاء کی شرکت اور رجسٹریشن سے پہلے ہی واضح طور پر یہ شرط طے کردی جائے کہ پروگرام کے اخراجات کے بعد بچ جانے والی رقم آئندہ اسی نوعیت کی اجتماعی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کے لیے کمیٹی کے پاس محفوظ رہے گی، اور شرکاء اس شرط کو جانتے ہوئے رضامندی سے فیس ادا کریں تو اس پیشگی اجازت کی بنا پر آئندہ کے جائز اجتماعی مقاصد میں اس رقم کو استعمال کرنا جائز ہوگا۔
بہتر اور زیادہ محتاط طریقہ یہ ہے کہ رجسٹریشن کے وقت ہی شرکاء کو فنڈ کے استعمال اور بچ جانے والی رقم کے آئندہ مصرف سے واضح طور پر آگاہ کردیا جائے، تاکہ بعد میں کسی قسم کا اختلاف یا شبہ پیدا نہ ہو، اسی طرح اگر پروگرام کے بعد کوئی قابلِ ذکر رقم بچ جائے تو شرکاء کو اس سے مطلع کرنا شفافیت اور باہمی اعتماد کے اعتبار سے بہتر ہے۔
5)والدین اور ساس سسر کو بلا فیس شریک کرنا
والدین، ساس سسر یا دیگر بزرگوں کو اعزازی طور پر بغیر فیس کے پکنک میں شریک کرنا، جبکہ دیگر شرکاء اس پر رضامند ہوں، شرعاً جائز ہے۔ یہ بزرگوں کی تکریم اور صلہ رحمی کے دائرے میں ایک اچھا اور مستحسن عمل ہے، بشرطیکہ اس سے کسی شریک کے حق پر ناجائز طور پر اثر نہ پڑے۔
خلاصۂ حکم
پوچھی گئی صورت میں اگر پکنک کی فیس باہمی رضامندی سے اجتماعی اخراجات کے لیے وصول کی جائے، اس میں کسی کھیل یا انعام کے لیے جیت ہار پر داؤ کے طور رقم نہ لگائی گئی ہو، خواتین کی سرگرمیاں شرعی پردے اور عدمِ اختلاط کے ساتھ ہوں، موسیقی اور آلاتِ لہو سے اجتناب کیا جائے، کھیلوں کے فاتحین کو مشترکہ فنڈ سے بطور انعام تحائف دیے جائیں، اور بچ جانے والی رقم کے آئندہ مصرف کے متعلق شرکاء سے پہلے ہی واضح رضامندی حاصل کرلی جائے تو مذکورہ طریقے کے مطابق فیملی پکنک کا انعقاد، فیس کی وصولی، جائز تفریحی سرگرمیوں کا اہتمام اور فاتحین کو انعامات دینا شرعاً جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الدلائل:

فتاوى قاضيخان (المطبوع بهامش الفتاوى الهندية) (ج 3، ص 617، كتاب الشركة، باب شركة العنان، ط: دار الفكر-بيروت):
قَوْمٌ خَرَجُوا فِي سَفَرٍ أَوْ نَزَلُوا فِي مَنْزِلٍ وَأَخْرَجَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ نَفَقَةً وَخَلَطُوا ذَلِكَ وَأَنْفَقُوا مِنْهُ جَمِيعًا بِالْمَعْرُوفِ جَازَ وَلَا يُعْتَبَرُ فِيهِ التَّسَاوِي فِي الْأَكْلِ وَكَذَلِكَ إذَا كَانَ بَعْضُهُمْ أَكْثَرَ عِيَالًا إذَا تَرَاضَوْا بِذَلِكَ.

رد المحتار على الدر المختار (ج 4، ص 326، كتاب الشركة، ط: دار الفكر-بيروت):
(قَوْلُهُ: كَمَا لَوْ دَفَعَ كُلٌّ نَفَقَةً وَخَلَطُوهَا) أَيْ وَأَنْفَقُوا بِالْمَعْرُوفِ جَازَ، وَلَا يُعْتَبَرُ التَّسَاوِي فِي الْأَكْلِ، وَكَذَا لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَكْثَرَ عِيَالًا حَيْثُ كَانَ بِرِضَاهُمْ كَمَا فِي الْخَانِيَّةِ.

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص 74، الفن الأول، القاعدة السادسة: العادة محكمة، ط: دار الكتب العلمية-بيروت):
الْمَعْرُوفُ عُرْفًا كَالْمَشْرُوطِ شَرْطًا.

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر للحموي (ج 2، ص 246، الفن الأول: القواعد الكلية، ط: دار الكتب العلمية-بيروت):
الرِّضَا بِالشَّيْءِ رِضًا بِمَا يَتَوَلَّدُ مِنْهُ.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 7، ص 170، كتاب الوكالة، باب الوكالة بالخصومة والقبض، ط: دار الكتاب الإسلامي):
وَالْوَكِيلُ إنَّمَا يَسْتَفِيدُ التَّصَرُّفَ مِنْ الْمُوَكِّلِ وَقَدْ أَمَرَهُ بِالدَّفْعِ إلَى فُلَانٍ فَلَا يَمْلِكُ الدَّفْعَ إلَى غَيْرِهِ كَمَا لَوْ أَمَرَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ هَذَا الشَّيْءَ لَا يَمْلِكُ أَنْ يَشْتَرِيَ غَيْرَهُ.

درر الحكام شرح غرر الأحكام لمنلا خسرو (ج 2، ص 268، كتاب الوكالة، ط: دار إحياء الكتب العربية):
لِأَنَّ تَصَرُّفَ الْوَكِيلِ يُنَاطُ بِإِذْنِ الْمُوَكِّلِ صَرِيحًا أَوْ دَلَالَةً.

الفتاوى الهندية: (ج 5، ص 324، كتاب الكراهية، الباب السادس والعشرون في الغصب والجزاء والمسابقة، ط: دار الفكر-بيروت):
وَإِنْ كَانَ الْجُعْلُ مِنْ جَانِبٍ وَاحِدٍ بِأَنْ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: إنْ سَبَقْتنِي فَأَنَا أُعْطِيك كَذَا، وَإِنْ سَبَقْتك لَا آخُذُ مِنْك شَيْئًا جَازَ.

(در المختار ج 10 ص 482-483. دار الكتب العلمية)
(وَحَرُمَ شَرْطُ الْجُعْلِ مِنْ الْجَانِبَيْنِ) إلَّا إذَا أَدْخَلَ مُحَلِّلًا بِشُرُوطِهِ كَمَا مَرَّ فِي الْحَظْرِ (لَا) يَحْرُمُ (مِنْ أَحَدِ الْجَانِبَيْنِ) اسْتِحْسَانًا وَلَا يَجُوزُ الِاسْتِبَاقُ فِي غَيْرِ هَذِهِ الْأَرْبَعَةِ كَالْبَغْلِ بِالْجُعْلِ، وَأَمَّا بِلَا جُعْلٍ فَيَجُوزُ فِي كُلِّ شَيْءٍ وَتَمَامُهُ فِي الزَّيْلَعِيِّ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals