سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں ایک انتہائی تکلیف دہ صورتِ حال کے بارے میں فوری اور مخلصانہ شرعی رہنمائی چاہتی ہوں، جس کا میں کئی ماہ سے سامنا کر رہی ہوں، براہِ کرم جواب دیتے وقت ذیل میں بیان کردہ تمام حالات کو پیشِ نظر رکھا جائے۔
میں اپنی 76 سالہ ضعیف والدہ اور اپنے تین بچوں کے ساتھ رہتی ہوں، میری بڑی بیٹی کی عمر 26 سال ہے، جبکہ میرے دو چھوٹے بیٹوں کی عمریں 22 اور 21 سال ہیں، میرے شوہر کا کئی سال قبل بیماری کی وجہ سے انتقال ہوچکا ہے۔
ایک طویل عرصے سے میری بیٹی کی طرف سے مجھے، میری ضعیف والدہ اور میرے بیٹوں کو شدید جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے، وہ بارہا گھر کے افراد پر جسمانی تشدد کرچکی ہے، جس کے نتیجے میں خون بہنے، نیل پڑنے، سوجن اور دیگر چوٹیں آئی ہیں۔ ایک مرتبہ اس نے میرے ایک بیٹے کو اتنا شدید مارا کہ وہ بے ہوش ہوگیا، اس نے میری ضعیف والدہ پر بھی کئی مرتبہ شدید تشدد کیا ہے۔
وہ بار بار انتہائی نازیبا اور توہین آمیز زبان استعمال کرتی ہے اور بعض اوقات گھر کے افراد کو انتہائی نامناسب اور شرمناک الفاظ کہنے پر مجبور کرتی ہے، وہ بار بار ہم پر اللہ تعالیٰ اور قرآنِ کریم کی قسمیں اٹھانے کے لیے دباؤ ڈالتی ہے اور گھر کے افراد کو نماز ادا کرنے اور قرآنِ کریم پڑھنے سے بھی روکتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ بارہا اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑاتی اور توہین آمیز کلمات استعمال کرتی رہی ہے، جن میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بظاہر توہین آمیز کلمات بھی شامل ہیں، اس نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی بھی توہین اور گستاخی کی ہے۔
اس کے رویے سے پیدا ہونے والے دباؤ اور حالات کی وجہ سے گھر کے بعض افراد بعض اوقات دینی فرائض کی ادائیگی سے بھی رک گئے اور دیگر گناہوں، مثلاً: جھوٹ اور سودی معاملات میں ملوث ہونے کے لیے دباؤ کا شکار ہوئے۔ ہمیں شدید خوف ہے کہ اگر یہ صورتِ حال جاری رہی تو ہم مزید کبیرہ گناہوں، حتیٰ کہ ناجائز مالی معاملات، چوری یا دیگر سنگین برائیوں میں مبتلا ہونے پر مجبور یا آمادہ ہوسکتے ہیں۔ ہم ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کرنا چاہتے، لیکن اس کے مسلسل دباؤ اور پیدا کردہ حالات کی وجہ سے ہمیں اندیشہ ہے کہ صورتِ حال مزید سنگین ہوجائے گی، گھر کے اندر اس کے رویے اور پردے و حیا کے حوالے سے بھی سنگین خدشات ہیں۔
ہم نے متعدد لوگوں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کی ہمدردی کے باوجود ہمیں مؤثر مدد نہیں مل سکی۔ صورتِ حال اس قدر ذلت آمیز، خوفناک اور ذہنی طور پر ناقابلِ برداشت ہوچکی ہے کہ میرے بیٹے بھی بارہا اس تکلیف کی وجہ سے خودکشی کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔
اب میں اس حد تک مایوس ہوچکی ہوں کہ میں نے اپنی بیٹی کو قتل کرنے کے بارے میں بھی سوچا ہے، کیونکہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس صورتِ حال کو ختم کرنے کا میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔ اسی لیے میں کسی بھی اقدام سے پہلے کسی مستند مفتی صاحب سے شرعی حکم معلوم کرنا چاہتی ہوں۔
میرا سوال:
مذکورہ تمام حالات بالخصوص میری ضعیف والدہ، میرے اور میرے بیٹوں پر اس کے بار بار جسمانی تشدد، شدید زخمی کرنے، ہمیں دینی فرائض کی ادائیگی سے روکنے، اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں بار بار توہین آمیز کلمات استعمال کرنے اور اس خوف کے پیشِ نظر کہ اس کا رویہ ہمیں مزید کبیرہ گناہوں میں مبتلا کرسکتا ہے، کیا میرے لیے شرعاً یہ جائز ہے کہ میں خود اپنی بیٹی کو قتل کردوں یا ایسا کرنا شرعاً گناہ اور ناجائز ہوگا؟
اگر بیٹی کو قتل کرنا شرعاً ناجائز ہو اور اس کے باوجود میں ایسا اقدام کر بیٹھوں، پھر اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کروں تو کیا میری توبہ کی گنجائش باقی رہے گی اور کیا اللہ تعالیٰ ایسی توبہ قبول فرماسکتے ہیں یا ایسا عمل توبہ اور مغفرت کو ناممکن بنا دے گا؟
میں یہ سوال اس لیے کر رہی ہوں کہ مجھے حقیقی خوف ہے کہ موجودہ صورتِ حال مزید سنگین نقصان، خودکشی، تشدد یا مزید کبیرہ گناہوں کا سبب بن سکتی ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی یا کسی ناجائز قتل کا ارتکاب نہیں کرنا چاہتی اور مخلصانہ طور پر جاننا چاہتی ہوں کہ ایسے حالات میں شریعت مجھے کیا کرنے کا حکم دیتی ہے۔
اگر ضروری ہو تو ہم مذکورہ واقعات اور گفتگو سے متعلق اردو زبان میں بعض آڈیو ریکارڈنگز بھی فراہم کرسکتے ہیں، تاکہ بیان کردہ واقعات کی تصدیق ہوسکے۔ اگر آپ سمجھیں کہ درست شرعی حکم دینے کے لیے ان کی ضرورت ہے تو ہم انہیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
براہِ کرم قرآنِ کریم، صحیح سنت اور اسلامی فقہ کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: بیٹی کا رویہ کتنا ہی تشدّد آمیز، نازیبا یا گستاخانہ کیوں نہ ہو، اسے اپنی طرف سے قتل کرنا شرعاً قطعی حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ سزا دینا یا حدود و قصاص نافذ کرنا کسی فردِ واحد کا نہیں بلکہ صرف شرعی عدالت اور ریاست کا اختیار ہے۔
موجودہ سنگین حالات میں آپ، آپ کی ضعیف والدہ اور بیٹوں کی جان کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اس حوالے سے مندرجہ ذیل عملی اقدامات فوری طور پر کیے جائیں:
فوری دوری اور تحفظ: متشدد فرد سے مناسب فاصلہ اختیار کریں یا ضرورت پڑنے پر عارضی طور پر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔
قانونی و انتظامی مدد: اپنی اور گھر والوں کی جان بچانے کے لیے فی الفور پولیس، خواتین کے تحفّظ کے اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کریں۔
طبّی اور نفسیاتی علاج: اس رویے کو محض ضد یا بغاوت سمجھنے کے بجائے کسی اچھے ماہرِ نفسیات (Psychiatrist) یا ہسپتال کے ذریعے اس کا طبی معائنہ اور علاج کروائیں۔
اکراہ کی شرعی رعایت: اگر شدید جان کے خوف کی وجہ سے زبردستی کسی بات پر مجبور کیا گیا ہو تو دل کا اطمینان معتبر ہے، گناہ لازم نہیں آتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لے کر خود کشی یا قتل کا ارتکاب کرنے کے بجائے اپنی حفاظت، سرکاری و قانونی مدد اور طبّی علاج کا راستہ اختیار کرنا ہی شریعت کی رو سے درست اور محفوظ ترین حل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*صحيح البخاري: (كتاب الديات،رقم الحدیث 6878، ط: دار طوق النجاة،)*
عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لايحل دم امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والمارق من الدين التارك للجماعة ."
*بدائع الصنائع: (كتاب الحدود، فصل في شرائط جواز إقامة الحدود، 57/7، ط:دار الكتب العلمية)*
"وأما شرائط جواز إقامتها: فمنها ما يعم الحدود كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام، وهذا عندنا."
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی