سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص لوگوں کے درمیان مسلمان کے طور پر معروف ہو، انٹرنیٹ پر بھی اس کے والدین کے مسلمان ہونے کی معلومات موجود ہوں، غیر عربی ملک میں اس کا عربی نام ہو اور اس کی ایسی تصاویر بھی موجود ہوں جن میں وہ عید مناتے ہوئے نظر آتا ہو، لیکن اس کے بارے میں ایسی تصاویر بھی آن لائن گردش کر رہی ہوں جن میں وہ غیر مسلموں کی مخصوص علامات کے ساتھ نظر آتا ہو، مثلاً: ہندوؤں کی پیشانی پر لگائی جانے والی سرخ لکیر یا نشان تو ہم شرعاً اسے کیا سمجھیں گے؟
خصوصاً اگر ہمیں اس شخص سے ملاقات کرنی ہو تو کیا ہم اسے سلام کریں گے وغیرہ؟
کیا اس حکم میں اس صورت میں کوئی فرق ہوگا کہ مذکورہ تصویر کسی نیوز چینل نے شائع کی ہو یا کسی ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ہو جو اس شخص سے متعلق ہو؟ یا اگر اس شخص سے مسلمانوں کی دیگر علامات بھی ظاہر ہوں، مثلاً: اسے کوئی دعا یا ذکر معلوم ہو تو کیا اس سے حکم میں کوئی فرق پڑے گا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص کے مسلمان ہونے کے متعدد قرائن موجود ہیں، مثلاً: وہ مسلمان کے طور پر معروف ہے، اس کا نام مسلمانوں والا ہے، اس کے والدین بھی مسلمان ہیں اور اس سے عید منانے جیسی اسلامی علامات بھی ظاہر ہوئی ہیں، لہٰذا جب تک اس کے کافر ہونے پر کوئی یقینی اور صریح دلیل موجود نہ ہو، اس پر اسلام ہی کا حکم لگایا جائے گا۔
البتہ جن تصاویر میں وہ شخص ہندوانہ مذہبی شعار، مثلاً؛ پیشانی پر لال ٹیکا (قشقہ) لگائے ہوئے نظر آرہا ہے، اگر وہ تصاویر درست ثابت ہوں تو ہندوؤں کا مذہبی شعار اختیار کرنے کی وجہ سے وہ ناجائز و حرام عمل کا مرتکب اور فاسق ضرور ہوگا، اور اس میں کفر کا اندیشہ بھی ہے، تاہم محض اس عمل کی بنیاد پر اسے دائرۂ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جائے گا، کیونکہ اس کے ہندوانہ مذہبی شعار اختیار کرنے پر خوشی اور دلی رضامندی کا یقینی علم حاصل نہیں ہورہا۔
لہٰذا ایسے شخص سے ملاقات کی صورت میں اسے سلام کرنا جائز ہے، اور اگر وہ سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب دینا بھی جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الهندية:(276/2، ط: دار الفكر)*
يكفر بوضع قلنسوة المجوس على رأسه على الصحيح إلا لضرورة دفع الحر والبرد وبشد الزنار في وسطه إلا إذا فعل ذلك خديعة في الحرب وطليعة للمسلمين.
*رد المحتار: (413/6،ط:دار الفکر)*
إنّ السلام سنة واستماعه مستحبّ، وجوابه أي ردّہ فرض کفایة، وإسماع ردّہ واجب.
*تفسير الطبري: (7/ 357،ط:دار هجر)*
(لا تقولوا لمن ألقى إليكم السلم لست مؤمنا)؛ لأن تحية المسلمين السلام، بها يتعارفون، وبها يحيى بعضهم بعضا.
حدثنا محمد بن الحسين، قال: ثنا أحمد بن المفضل، قال: ثنا أسباط، عن السدي: (يأيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلم لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا فعند الله مغانم كثيرة كذلك كنتم من قبل فمن الله عليكم فتبينوا): بعث رسول الله عليه السلام سرية عليها أسامة بن زيد إلى بنى ضمرة، فلقوا رجلا منهم يدعى مرداس بن نهيك معه غنيمة له وجمل أحمر، فلما رآهم أوى إلى كهف جبل، واتبعه أسامة، فلما بلغ مرداس الكهف وضع فيه غنمه، ثم أقبل إليهم فقال: السلام عليكم، أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، فشد عليه أسامة فقتله من أجل جمله وغنيمته، وكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا بعث أسامة أحب أن يثنى عليه خيرا، ويسأل عنه أصحابه، فلما رجعوا لم يسألهم عنه، فجعل القوم يحدثون النبي صلى الله عليه وسلم ويقولون: يا رسول الله، لو رأيت أسامة ولقيه رجل، فقال الرجل: لا إله إلا الله محمد رسول الله، فشد عليه فقتله؟ وهو معرض عنهم، فلما أكثروا عليه، رفع رأسه إلى أسامة فقال: "كيف أنت ولا إله إلا الله؟ " فقال: يا رسول الله، إنما قالها متعوذا، تعوذ بها. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هلا شققت عن قلبه فنظرت إليه؟ " قال: يا رسول الله، إنما قلبه بضعة من جسده، فأنزل الله خبر هذا، وأخبره إنما قتله من أجل جمله وغنمه، فذلك حين يقول: {تبتغون عرض الحياة الدنيا}. فلما بلغ {فمن الله عليكم}. يقول تاب الله عليكم، فحلف أسامة أن لا يقاتل رجلا يقول: لا إله إلا الله. بعد ذلك الرجل، وما لقى من رسول الله صلى الله عليه وسلم.
*کفایت المفتی: (174/13،ط:ادارہ الفاروق)*
*فتاوی قاسمیہ: (481/24،ط: رشیدیہ)*
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی