سوال:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، استاذ محترم! ایک شخص کو اپنا شناختی کارڈ بنوانے کے لیے اپنے والدین کے شناختی کارڈز کی ضرورت تھی، لیکن اس شخص کے والد کا انتقال ہو چکا ہے، جبکہ والدہ حیات ہیں مگر ان کا بھی شناختی کارڈ نہیں بنا ہوا۔ چنانچہ شناختی کارڈ کے حصول کے لیے ان سب نے مل کر یہ منصوبہ بنایا کہ والدین کی جگہ کسی اور (اجنبی) شخص کو بطور والد/والدہ ظاہر کر کے شناختی کارڈ بنوا لیا جائے۔
جب یہ ساری ترتیب بن گئی تو بعد میں انہیں شرعی مسئلہ معلوم ہوا کہ کسی اجنبی کو اپنا والد یا والدہ ظاہر کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ یہ معلوم ہونے کے بعد جب انہوں نے اس عمل سے پیچھے ہٹنے اور اسے منسوخ کرنے کی کوشش کی تو ایک بڑی مشکل کھڑی ہو گئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ اگر اب اس کارروائی کو روکا گیا تو دھوکہ دہی کے جرم میں والدین کی جگہ لینے والے اس اجنبی شخص کو 5 سال قید کی سزا ہوگی اور شناختی کارڈ بنوانے والے کو بھی 5 سال قید کاٹنی پڑے گی۔
ان سنگین خطرات کے پیشِ نظر، والدین کی جگہ لینے والے اس اجنبی شخص نے کہا کہ اب وہ اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا، لہٰذا سخت مجبوری کی حالت میں انہیں یہ کارروائی جاری رکھنی پڑی۔
دوسری بات یہ ہے کہ میانمار (برما) کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے شناختی کارڈ بنوانا حد سے زیادہ مشکل ہے۔ اس کام کے لیے بہت سارا پیسہ بھی دینا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے یہ عمل بار بار کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ شناختی کارڈ کے حصول کا ایک طریقہ اختیار کیا تھا جس کی وجہ سے اب ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس گناہ پر توبہ کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ اور اس گناہ کا کفارہ کیسے ادا کیا جائے گا؟ براہِ کرم اس مسئلے کی واضح اور تفصیلی رہنمائی فرما دیں۔
جواب: واضح رہے کہ جان بوجھ کر اپنے نسب کو کسی اجنبی شخص کی طرف کرنا اور اسے اپنے والد یا والدہ کے خانے میں درج کرانا ہرگز جائز نہیں ہے، اس لیے ابتداءً اس طریقے سے شناختی کارڈ بنوانے کا عمل ناجائز اور غلط تھا۔
تاہم پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً آپ کے ملک (ميانمار/برما) میں ایسی صورتِ حال ہے کہ اُسے منسوخ کرنا یا تبدیل کروانا بہت زیادہ مشکل ہے تو ان معروضی حالات میں مجبوری کی وجہ سے اگر اُسے منسوخ یا تبدیل نہ کروایا جاسکے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے۔
البتہ ابتدائی غلطی پر اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ واستغفار کریں، اپنے فعل پر نادم ہوں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا پختہ ارادہ کریں، نیز اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ جان پہچان کے لوگوں کو اپنا حقیقی نسب ہی بیان کیا جائے، اور موقع بموقع اس کی وضاحت بھی کی جاتی رہے کہ حقیقی اور درست نسب اس طرح نہیں ہے جیسے یہاں لکھا گیا ہے، بلکہ درست نسب یوں ہے۔ نیز اگر مستقبل میں کسی بڑے نقصان کے بغیر سرکاری ریکارڈ میں حقیقی والدین کی طرف درست نسبت کروانا ممکن ہوجائے تو اسے درست کروانے کی کوشش کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الكريم: (البقرة، الآية: ٢٨٦)*
﴿*لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا* لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ●﴾
*سنن أبي داود: (7/ 437، رقم الحديث: 5115، ط: دار الرسالة العالمية)*
حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا عمر بن عبد الواحد، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني سعيد بن أبي سعيد ونحن ببيروت، عن أنس بن مالك، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله المتتابعة إلى يوم القيامة".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی