resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: والدین کے متضاد احکام کی صورت میں بیٹے کے لیے مناسب رویّہ

(62560-No)

سوال: اگر ایک والد اور والدہ اپنے بیٹے کو مختلف اور متضاد احکام دیں، اور بیٹا اپنی والدہ کے حکم پر عمل کر لے، تو کیا والدہ شرعاً اس بات کی مرتکب ہوں گی کہ انہوں نے اپنے شوہر کے حکم کی مخالفت کرتے ہوئے بیٹے کو متضاد ہدایت دی؟ اور ایسی صورت میں بیٹے کے لئے شرعی طور پر درست اور بہتر عمل یہ ہوگا کہ وہ والد کے حکم کو مقدم رکھے تاکہ والدہ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ نہ سمجھا جائے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر شرعی حدود میں رہتے ہوئے بیٹے کے لیے والدین میں سے ہر ایک کی بات پر عمل کرنا ممکن ہو تو حتی الامکان دونوں کی باتوں پر عمل کر لیا کرے، تاکہ والدین جیسے مقدس رشتے میں ناچاقی کی صورت پیدا نہ ہو، البتہ اگر شرعی حدود میں رہتے ہوئے کسی موقع پر دونوں کی باتوں پر ایک ساتھ عمل کرنا ناممکن ہو تو ایسی صورت میں جس کی بات شرعی تعلیمات کے مطابق ہو، اسی کی بات پر عمل کیا جائے اور دوسرے سے انتہائی عاجزانہ و مشفقانہ انداز سے عفو و درگزر کی درخواست کرلی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*القرآن الكريم: (العنكبوت، الآية: 8)*
وَوَصَّیۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَ ٰ⁠لِدَیۡهِ حُسۡنࣰاۖ وَإِن جَٰهَدَاكَ لِتُشۡرِكَ بِی مَا لَیۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمࣱ فَلَا تُطِعۡهُمَاۤۚ إِلَیَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals