سوال:
میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب کسی رشتہ دار سے کوئی خاص تعلق یا میل جول نہیں رکھنا چاہتے، کیونکہ ان سے انہیں کچھ مسائل ہیں، وہ ان رشتہ داروں کے سامنے بھی اپنے مسائل کا اظہار نہیں کرتے، اور اگر کوئی ان سے پوچھے کہ مسئلہ کیا ہے تو سارا معاملہ اپنی اہلیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ یہ میرے مسائل نہیں بلکہ میری بیگم کے مسائل ہیں۔
جب ان کی اہلیہ انہیں رشتہ داری کے شرعی احکام سمجھاتی ہیں، احادیث کا حوالہ دیتی ہیں یا کسی بھی طرح انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں تو وہ الٹا انہی سے جھگڑنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم دوسروں کی وجہ سے گھر کا ماحول خراب کرتی ہو۔
اگر ان کی اہلیہ ناراض ہوجائیں تو وہ انہیں منانے کی کوشش بھی نہیں کرتے، بلکہ کہتے ہیں: "میں اکیلا رہ سکتا ہوں، مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔" وہ ہمیشہ یہ جملہ بھی کہتے ہیں کہ "میں کبھی کسی کے ساتھ غلط نہیں کرتا۔"
ایسی صورتِ حال میں والد صاحب کو راہِ راست پر لانے اور انہیں رشتہ داروں کے حقوق اور صلہ رحمی کی اہمیت سمجھانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟
جواب: رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی کرنا شریعت میں نہایت اہم ہے، اسی طرح بلا وجہ قطع تعلقی کرنا شرعاً پسندیدہ نہیں، لہذا اگر والد کسی رشتہ دار سے کسی وجہ سے ناراض ہیں تو پہلے ان کی ناراضی کی اصل وجہ معلوم کی جائے اور اگر کوئی واقعی شرعی یا اخلاقی مسئلہ ہے تو اسے مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ محض مسائل کی وجہ سے رشتہ داروں سے تعلقات ختم کردینا درست نہیں۔
والد صاحب کو براہِ راست ملامت کرنے یا بار بار بحث کرنے کے بجائے محبت اور احترام کے ساتھ صلہ رحمی کی فضیلت اور قطع رحمی کی وعید سمجھائی جائے، البتہ گھر کے کسی فرد کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ہر موقع پر والد کو سمجھانے کی کوشش میں ان سے بحث و تکرار کرے، کیونکہ اس سے معاملہ مزید خراب ہوسکتا ہے، بلکہ کسی ایسے بزرگ، عالمِ دین یا خاندان کے سمجھ دار شخص کے ذریعے بات سمجھائی جائے جس کی بات والد اطمینان سے سن لیتے ہوں۔
نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ کسی شخص کو "راہِ راست پر لانا" ہمارے اختیار میں نہیں؛ ہماری ذمہ داری خیرخواہی، نصیحت اور اچھے طریقے سے سمجھانا ہے، جبکہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، لہٰذا مایوس ہونے کے بجائے حکمت کے ساتھ کوشش اور دعا جاری رکھنی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: [الرعد: 21]*
وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ
*صحيح البخاري: (رقم الحدیث: 5989، ط: دار طوق النجاة)*
عن عائشة، رضي الله عنها، زوج النبي صلى الله عليه وسلم، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الرحم شجنة، فمن وصلها وصلته، ومن قطعها قطعته»
*المستدرك على الصحيحين للحاكم: (2/ 563، ط: دار الکتب العلمية)*
عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ثلاث من كن فيه حاسبه الله حسابا يسيرا وأدخله الجنة برحمته» قالوا: لمن يا رسول الله؟ قال: «تعطي من حرمك، وتعفو عمن ظلمك، وتصل من قطعك» قال: فإذا فعلت ذلك، فما لي يا رسول الله؟ قال: «أن تحاسب حسابا يسيرا ويدخلك الله الجنة برحمته»
*مشكاة المصابيح: (3/ 1377، ط: المکتب الاسلامي)*
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " خلق الله الخلق فلما فرغ منه قامت الرحم فأخذت بحقوي الرحمن فقال: مه؟ قالت: هذا مقام العائذ بك من القطيعة. قال: ألا ترضين أن أصل من وصلك وأقطع من قطعك؟ قالت: بلى يا رب قال: فذاك ". متفق عليه
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی