عنوان: عیسائی لڑکی سے شادی کرنے کا حکم(5355-No)

سوال: السلام عليكم، مفتی صاحب ! کیا عیسائی لڑکی سے نکاح ہو جاتا ہے اور اگر ہو جاتا ہے تو کیا نکاح سے پہلے اس کو مسلمان کرنا ضروری ہے؟

جواب: اہل کتاب سے نکاح کے بارے میں چند باتوں کی وضاحت ضروری ہے:
(1) قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اہل کتاب سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے، اب سوال یہ ہے کہ اہل کتاب سے کیا مراد ہے؟
امت کا اتفاق ہے کہ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں، جو کسی ایسی کتاب پر ایمان رکھتے ہوں، جس کا کتاب اللہ ہونا بتصدیق قرآن یقینی ہو، جیسے تورات، انجیل اور زبور وغیرہ اور وہ اس کو وحی الہی قرار دیتے ہوں۔
(2) آج کل کے عیسائی اور یہودیوں کی بہت بڑی تعداد صرف نام کے یہودی یا عیسائی کہلاتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ نہ ہی خدا کے وجود کے قائل اور نہ ہی کسی مذہب کے قائل ہیں، نہ تورات و انجیل کو خدا کی کتاب مانتے ہیں اور نہ موسی و عیسی علیھماالسلام کو اللہ کا نبی و پیغمبر تسلیم کرتے ہیں، لہذا اس قسم کے عیسائی و یہودی ملحد اور لادین ہیں،کسی طرح اہل کتاب میں شمار نہیں کیے جاسکتے ہیں۔
(3) اگر کسی مسلمان نے اہلِ کتاب کی کسی عورت سے شادی کی ہو تو شرعی قانون کے لحاظ سے اولاد مسلمان شمار ہوگی، لیکن باہر کے ممالک میں عیسائی عورتوں سےجو شادیاں کی جاتی ہیں، ان سے پیدا ہونے والی اولاد اکثر اپنی ماں کا مذہب اختیار کرلیتی ہے اور بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے یہ جوڑا طے کرلیتا ہے کہ آدھی اولاد شوہر کی ہوگی اور آدھی بیوی کے مذہب پر ہوگی، اگر ایسی شرط لگائی جائے تو ایسی شادی کرنے والا مسلمان یہ شرط لگاتے ہی مرتد ہوجائے گا، کیونکہ اس نے اپنی اولاد کے کافر ہونے کو گوارا کرلیا اور اس پر رضامندی دے دی، اور کسی کے کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے، لہٰذا ایسی شرط لگاتے ہی یہ شخص ایمان سے خارج ہوکر مرتد ہوجائے گا۔
لہذا ان ساری باتوں سے یہ ثابت ہوا کہ عیسائی اور یہودی عورت سےمسلمان کا نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہے، بشرطیکہ عورت واقعتاً عیسائی مذہب پر ہو اور شرعی طریقے پر دو گواہوں کے سامنے نکاح ہوا ہو، لیکن عیسائی عورتوں سےشادی کرنے میں بہت مفاسد اور فتنوں میں پڑنے کا اندیشہ ہے، اس لیے اجتناب کرنا زیادہ بہتر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (45/3، ط: دار الفکر)
(وصح نكاح كتابية) ، وإن كره تنزيها (مؤمنة بنبي) مرسل (مقرة بكتاب) منزل، وإن اعتقدوا المسيح إلها

الھدایة: (کتاب النکاح، 330/2، ط: رحمانیة)
(ویجوز تزوج الکتابیات)لقولہ تعالی والمحصنات من الذین اوتواالکتاب:ای العفائف۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1282 Oct 06, 2020
esaai larki say shadi karne ka hukum, Ruling / Order to marry a Christian girl

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.