سوال:
مفتی صاحب! کمرے میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے اگر سجدہ کی جگہ سوئے ہوئے شخص کے سامنے نماز پڑھ لی جائے، تو کیا حکم ہوگا؟
جواب: چت یا قبلہ کی طرف منہ کرکے لیٹے ہوئے شخص کے سامنے نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے، لیکن اگر لیٹے ہوئے شخص کا چہرہ نمازی کے چہرے کی طرف ہو تو اس صورت میں اس کے چہرے کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ ہوگا، اور جس طرح لیٹے ہوئے شخص کے چہرے کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ ہے، اسی طرح چت یا سمت قبلہ میں لیٹے ہوئے شخص کے لیے (نماز شروع کرنے کے بعد) نمازی کی طرف چہرہ موڑنا بھی مکروہ ہے، اس صورت میں لیٹا ہوا شخص گناہ گار ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے نمازی کا قبلہ کی سمت سوئے ہوئے شخص کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا جائز ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ سونے والے کا چہرہ نمازی کے چہرے کے سامنے نہ ہو، تاہم اگر اس کا چہرہ اتفاقاً کبھی سامنے ہو بھی جائے، تب بھی اس سے نماز میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ ﷺ اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح لیٹی ہوئی ہوتی تھی۔ (صحیح مسلم)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحيح مسلم: (رقم الحدیث: 512، ط: دار احیاء التراث العربی)
عن عروة، عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي من الليل، وأنا معترضة بينه وبين القبلة، كاعتراض الجنازة ۔
حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (369/1، ط: دار الکتب العلمیة)
"ولا" يكره التوجه لمصحف أو سيف معلق لأنهما لا يعبدان وقال تعالى: {وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ} "أو ظهر قاعد يتحدث" في المختار لعدم التشبه بعبدة الصور وصلى ابن عمر إلى ظهر نافع.
قوله: "أو ظهر قاعد" أي أو قائم قوله: "يتحدث" أي سرا بحيث لا يخاف منه الغلط وقيد بالظهر لأنها إلى الوجه مكروهة والكراهة على المتعدي وقيد بالتحدث ليفيد عدم الكراهة حال عدمه بالأولى.
رد المحتار: (652/1، ط: دار الفکر)
وما في مسند البزار أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «نهيت أن أصلي إلى النيام والمتحدثين»، فهو محمول على ما إذا كانت لهم أصوات يخاف منها التغليط أو الشغل، وفي النائمين إذا خاف ظهور شيء يضحكه. اه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی