عنوان: نوکری وغیرہ کے سلسلے میں کتنے عرصے تک بیرون ملک/ گھر سے دور رہ سکتے ہیں؟(105391-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! آج کل شادی شدہ مرد حضرات بیرون ملک نوکری کے لئے اکیلے جاتے ہیں اور سالہاسال اپنے ملک واپس نہیں آتے (چاہے تنگدستی کی وجہ سے یا کوئی بھی دوسری وجہ ہو)۔ سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں اگر بیوی کسی گناہ کے کام میں مبتلا ہو جائے تو کیا اس گناہ کا خاوند بھی ذمہ دار اور سزا وار ہے؟ کیا ایسی صورت میں بیوی کا طلاق لینا مناسب ہے؟

جواب: عام حالات میں شوہر کیلئے بیوی کے اجازت کے بغیر چار ماہ تک٬ اور بیوی کی اجازت ہو تو٬ چار ماہ سے زائد عرصہ دور رہنا جائز ہے.

یہ حکم عام حالات اور کبھی کبھار ضرورت پیش آنے کی صورت کا ہے٬ لیکن اگر اتنا عرصہ دور رہنے کی صورت میں میاں بیوی میں سے کسی ایک کے بھی فتنے میں مبتلا ہونے کا یقین یا غالب گمان ہو٬ تو پھر بیوی کی اجازت کے ساتھ بھی دور رہنا جائز نہ ہو گا٬ اور جہاں غالب گمان تو نہ ہو٬ مگر کسی درجے میں احتمال ہو٬ تو وہاں بھی حتی الامکان اس سے احتراز ہی لازم ہے٬ اور اس سلسلے میں مدت کی کوئی قید نہیں ہے٬ بلکہ یہ مدت عرف اور حالات کے لحاظ سے بدلتی رہے گی٬ جبکہ موجودہ حالات میں ملازمت٬ کمائی وغیرہ کے سلسلے سالہا سال بیوی سے دور رہنا فتنے سے خالی نہیں ہے٬ اور اتنی مدت کیلئے بیوی کو چھوڑ کر جانا کہ اس کے فتنے میں واقع ہونے غالب گمان ہو٬ یا دیگر حقوق ضایع ہورہے ہوں٬ ہرگز جائز نہیں٬ نیز ایسی صورت میں اگر ناگزیر حالات کی بناء پر بیوی طلاق کا مطالبہ کرے٬ تو ان شاء اللہ٬ اللہ کے ہاں وہ گنہگار نہیں ہوگی.

لہذا گھر سے دور رہائش پذیر افراد کو اولا تو ایسی ملازمت و کاروبار تلاش کرنا چاہئے کہ چار ماہ سے پہلے گھر چکر لگانا ممکن ہو٬ البتہ اگر کوئی ایسی صورت ممکن نہ ہو٬ اور گھر سے بہت زیادہ دور جانا پڑجائے٬ جہاں سے سال دو سال تک واپسی مشکل ہو٬ تو ایسی صورت میں درج ذیل شرائط کے ساتھ وہاں ٹھہرنا جائز ہوگا:

1 اس مدت میں بیوی کو حقوق زوجیت (جماع وغیرہ ) کی طرف زیادہ شوق و رغبت نہ ہو۔

2. اتنے عرصے میں بیوی یا خود شوہر کے فتنے میں پڑنے یقین یا غالب گمان نہ ہو.

3. بیوی کی اجازت ہو.

4. نان و نفقہ اور اولاد کی تعلیم اور تربیت کا مناسب انتظام کیا جائے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی القران الکریم:

لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

(سورة البقرہ: 226)

وفی المصنف لعبدالرزاق:

" عبد الرزاق عن بن جريج قال أخبرني من أصدق أن عمر ؓ وهو يطوف سمع امرأة وهي تقول:
تطاول هذا الليل واخضل جانبه
وأرقني إذ لا خليل ألاعبه
فلولا حذار اللٰہ لا شيء مثله
لزعزع من هذا السرير جوانبه
فقال عمر ؓ فمالك قالت أغربت زوجي منذ أربعة أشهر وقد اشتقت إليه فقال أردت سوءا قالت معاذ الله قال فاملكي على نفسك فإنما هو البريد إليه فبعث إليه ثم دخل على حفصة فقال إني سائلك عن أمر قد أهمني فأفرجيه عنه كم تشتاق المرأة إلى زوجها فخفضت رأسها فاستحيت فقال فإن لله لا يستحيي من الحق فأشارت ثلاثة أشهر وإلا فأربعة فكتب عمر ألا تحبس الجيوش فوق أربعة أشهر"

(رقم الحدیث:12593)

وفی الشامیۃ

"ويؤيد ذلك أن عمر رضي الله تعالى عنه لما سمع في الليل امرأة تقول : فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد ، فسأل بنته حفصة : كم تصبر المرأة عن الرجل : فقالت أربعة أشهر ، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها ، ولو لم يكن في هذه المدة زيادة مضارة بها لما شرع الله تعالى الفراق بالإيلاء فيها"

(ج3 ٬ ص203 ط. دارالفکر بیروت)

وفی الدرالمختار:

"(وفي الملبوس والمأكول ) والصحبة ( لا في المجامعة ) كالمحبة بل يستحب ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحياناولا يبلغ مدة الإيلاء إلا برضاها
وفی ا لرد تحتہ: قوله ( بل يستحب ) أي ما ذكر من المجامعة ح ۔۔۔ قوله ( ويسقط حقها بمرة ) قال في الفتح واعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة لكن لا يدخل تحت القضاء والإلزام إلا الوطأة الأولى ولم يقدروا فيه مدة ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به"

(ج3 ٬ ص 3-202 ٬ ط.دارالفکر بیروت)

کذا فی فتاویٰ عثمانی: ج2 ص13-212 ٬ ط. مکتبہ معارف القرآن کراچی

و اللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی.

Print Full Screen Views: 374
nokri wagaira kay silsilay mai kitnay arsay tak bairon mulk ghar say daour reh saktay hain?\

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.