سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب! آنکھوں کی لاعلاج بیماری کی وجہ سے شادی میں رکاوٹ آرہی ہے، لاعلاج بیماری، شادی اور بے اولاد کے لیے کوئی وظیفہ بتا دیجیے۔ جزاک اللہ خیرا
دوسرا سوال یہ ہے کہ ہماری انڈیا میں ایک کتاب بنی ہے جس کا نام ایت الہی ہے اس کے اندر بیماری کا نام لکھا ہوتا ہے اور اس کے نیچے قرآن کی کوئی ایت لکھی ہوئی ہوتی ہے اور اس کو پڑھنے کا طریقہ لکھا ہوتا ہے یہ نہیں پتہ کہ یہ کسی اور ملک میں بھی اس کتاب کا ذکر ہے یا نہیں کیا اس طرح سے کسی بیماری کے لیے آیتوں کو چن کر پڑھنا صحیح ہوگا؟
جواب: آپ کے سوال میں چار امور کا جواب مطلوب ہے، جن کا جواب ترتیب وار دیا جارہا ہے ۔
(1) آنکھ کی بیماری سے متعلق ایک حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو یا آپ کے گھر والوں میں سے کسی کی آنکھ کی بیماری لگتی تو آپ ان کلمات کے ساتھ دعا مانگتے: " اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِي بِبَصَرِي، وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنِّي، وَأَرِنِي فِي الْعَدُوِّ ثَأْرِي، وَانْصُرْنِي عَلٰى مَنْ ظَلَمَنِي"
ترجمہ: " اے اللہ مجھے میری بصارت کا نفع دے ، اور اس کو میرا وارث بنا ، اور میرے دشمن میں میرا انتقام دکھا ، اور جو مجھ پر ظلم کرے ، اس کے خلاف میری مدد فرما "۔(مستدرک حاکم، حدیث نمبر: 8272) لہذا آنکھ کی لاعلاج بیماری کے لیے بھی اس دعا کا کثرت سے اہتمام کرنا چاہیے۔
(2) اچھے، دیندار اور مناسب رشتہ کے لیے ظاہری اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ نمازوں کے بعد دعاؤں کا خصوصی اہتمام کریں، اور صلاۃ الحاجت بھی پڑھیں۔
نیز درج ذیل دعا کا کثرت سے ورد کریں، یہ رشتے کے سلسلے میں مجرّب معمولات میں سے ہے:
﴿رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ﴾ ترجمہ: میرے پروردگار! جو کوئی بہتری تو مجھ پر اوپر سے نازل کردے، میں اس کا محتاج ہوں۔
(3) اولاد کے حصول کے لیے اللہ تعالی سے خوب دعائیں مانگیں، کثرت سے استغفار کریں اور اس کے علاوہ میاں بیوی ہر نماز کے بعد سات مرتبہ درج ذیل دعا کا اہتمام کریں۔ ان شاءاللہ، اللہ تعالیٰ صالح اولاد عطا فرمائیں گے۔ ﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ﴾ ترجمہ: یا رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑیئے، اور آپ سب سے بہتر وارث ہیں۔
(4) نیز جس کتاب (آیت الہی) کا آپ نے حوالہ دیا ہے، وہ ہماری نظر سے نہیں گزری، اس لیے اس کے بارے میں حتمی رائے پیش کرنا ممکن نہیں، البتہ اگر اس میں کسی آیتِ قرآنی کے ساتھ یہ ذکر ہو کہ فلاں بیماری کے لیے اس آیت کا پڑھنا بطورِ تجربہ مفید اور شفا بخش ثابت ہوا ہے تو ایسی کتاب سے آیات بطور وظیفہ کے پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ اسے یقینی اور لازمی علاج نہ سمجھا جائے، بلکہ محض ایک مجرَّب عمل قرار دیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*المستدرک علی الصحیحین للحاکم: (رقم الحدیث:8272)*
حدثنا أنس بن مالك رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أصابه رمد، أو أحدا من أهله وأصحابه، دعا بهؤلاء الكلمات: اللهم متعني ببصري، واجعله الوارث مني، وأرني في العدو ثأري، وانصرني على من ظلمني.
*شرح الزرقاني على المواهب اللدنية: (9/ 384،ط: دار الكتب العلمية)*
قال العلامة الزرقاني : وقال القرطبي: الرقى ثلاثة أقسام: أحدها: ما كان يرقى به في الجاهلية؛ مما لا يعقل معناه، فيجب اجتنابه لئلا يكون فيه شرك أو يؤدي إلى شرك. والثاني: ما كان بكلام الله أو بأسمائه فيجوز، فإن كان مأثورًا فيستحب. والثالث: ما كان بأسماء غير الله تعالى من ملك أو صالح أو معظم من المخلوقات كالعرش قال: فهذا ليس من الواجب اجتنابه، ولا من المشروع الذي يتضمن الالتجاء إلى الله تعالى به والتبرك بأسمائه، فيكون تركه أولى، إلا أن يتضمن تعظيم المرقي به فينبغي أن يجتنب كالحلف بغير الله تعالى.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی