سوال:
میرا سوال ہے کہ اگر ایک انسان دنیا میں کسی سے پیار کرتا تھا، اب اس نے ترک کر دیا تو کیا وہ اس طرح دعا مانگ سکتا ہے اے اللہ مجھے حلال طریقے سے اس کا بہترین نعم البدل عطا فرما اور اے اللہ جسے میں دنیا میں بہت پیار کرتا تھا، میں نے اسے آپ کی رضا کے لیے چھوڑ دیا، اب مجھے اسی لڑکی کو جنت میں حورعین میں سے عطا کرنا. کیا یہ دونوں طرح کی دعاییں مانگ سکتے ہیں اگر نہیں تو پھر ان دعاوں کو کیسے مانگا جاسکتا ہے اور اس بندے نے مانگی ہوگی تو کیا وہ گنہگار ہوگا؟
جواب: اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی اجنبی لڑکی سے عشق و محبت والا تعلق قائم کرنا اور اس رشتہ (Relation) میں رہنا ناجائز ہے، اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات بالکل واضح ہیں کہ اگر کسی لڑکے کو کوئی لڑکی پسند آ جائے اور وہ دونوں آپس میں تعلق بڑھانا چاہتے ہوں تو لڑکا اور لڑکی کو نکاح کا جائز طریقہ اختیار کرتے ہوئے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جانا چاہیے، لیکن اگر لڑکی کسی اور کے نکاح میں ہو یا کسی اور وجہ سے باہم نکاح کرنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں اس محبت کے خیال کو دل سے مکمل طور پر نکال لینا چاہیے۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر آپ مذکورہ لڑکی سے نکاح نہیں کرنا چاہتے تو پھر اس کا خیال دل سے نکال دیں، البتہ آپ اپنے لیے بہترین شریک حیات کی دعا مانگ سکتے ہیں، اسی طرح آپ جنت میں دخول اور حورِ عین پانے کی دعا بھی مانگ سکتے ہیں، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ دعا کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہوئے شرطیں نہ لگائیں بلکہ خیر اور بہتری کی دعا کریں، دعا میں شکل و صورت وغیرہ کی تخصیص نہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (الاعراف، الآیة: 55)
اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ۚ اِنَّهٝ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ O
سنن ابن ماجه: (رقم الحدیث: 3864، ط: دار الجیل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، سَمِعَ ابْنَهُ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ، إِذَا دَخَلْتُهَا، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ! سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَعُذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ.
معارف القرآن: (579/3، ط: ادارۃ المعارف)
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی