resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والدہ کا نام بتا کر استخارہ کروانا

(59431-No)

سوال: ایک عالمہ وظائف دیتی ہیں لیکن وہ دینے سے پہلے استخارہ کرنے کے لیے والدہ کا نام پوچھتی ہیں اور اس کے بعد اس کے حساب سے وہ وظائف دیتی ہیں اور وظائف بھی قرآن کی آیت اور دعاؤں پر ہی منحصر ہوتے ہیں تو کیا اس طرح سے والدہ کا نام کے ساتھ استخارہ کرنا صحیح ہے؟
اگر استخارہ میں کوئی پریشانی ہو تو بھی وہ ہمیں بتا دیتی ہے جیسے کہ روحانی مسئلہ ہو یا پھر جادو کروایا گیا ہو تو وہ یہ بتا دیتی ہیں تو کیا یہ ٹھیک ہے؟ کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ والدہ کا نام کے ساتھ استخارہ کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی علیہ السلام نے کبھی بھی کسی سے بھی اس کی والدہ کا نام نہیں پوچھا کسی بھی مسئلے کا حل بتاتے وقت وہ عالمہ کہتی ہیں کہ وہ شریعت کے حساب سے ہی وظائف بھی دیتی ہیں اور استخارہ بھی کرتی ہیں۔
جزاک اللہ خیرا

جواب: واضح رہے کہ استخارہ ایک مسنون عمل ہے جس کے ذریعے سے آدمی مستقبل میں درپیش کسی اہم معاملہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا مانگتا ہے، استخارہ کسی دوسرے شخص سے کرانا جائز تو ہے لیکن بہتر اور مسنون یہی ہے آدمی خود اپنے لیے استخارہ کرے، علاوہ ازیں احادیث مبارکہ میں استخارہ کا مسنون طریقہ مذکورہ ہے اس لیے استخارہ اسی مسنون طریقہ کار کے مطابق کرنا چاہیے۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں والدہ کے نام کے ذریعے سے جو استخارہ کیا جاتا ہے اس کا ثبوت کسی حدیث شریف میں نہیں ملتا، اور نہ ہی قرآن وسنت سے ایسا کوئی استخارہ ثابت ہے جس کی مدد سے ماضی کے واقعات مثلاً: جادو وغیرہ کی نشاندہی کی جاسکتی ہو، اس لیے اس عمل کو استخارے کا نام دینا اور اس کو مسنون عمل سمجھنا درست نہیں ہے۔
جہاں تک وظائف کا سوال ہے تو اگر ان کے الفاظ جائز مضمون پر مشتمل ہوں اور ان میں کوئی شرکیہ یا مجہول کلمات نہ ہوں اور پڑھنے والا ان وظائف کو موثر حقیقی نہ سمجھے تو ان کا پڑھنا جائز ہے۔
*نوٹ:* استخارہ کا مسنون طریقہ جاننے کے لیے ہمارا درج ذیل فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:
https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=2167

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*مرقاة المفاتيح: (2880/7، کتاب الطب و الرقی، ط: دار الفکر)*
"وأما ما كان من الآيات القرآنية، والأسماء والصفات الربانية، والدعوات المأثورة النبوية، فلا بأس، بل يستحب سواء كان تعويذاً أو رقيةً أو نشرةً، وأما على لغة العبرانية ونحوها، فيمتنع؛ لاحتمال الشرك فيها".

*صحيح البخاري: (رقم الحديث: 6382، 81/8، ط: دار طوق النجاة)*
عن جابر رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها، كالسورة من القرآن: " إذا هم بالأمر فليركع ركعتين ثم يقول: اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال: في عاجل أمري وآجله - فاقدره لي، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال: في عاجل أمري وآجله - فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان، ثم رضني به، ويسمي حاجته "

*الفواكه الدواني: (186/1، ط: مكتبة الثقافة الدينية)*
يظهر جواز الاستخارة للغير لأنه إعانة على فعل الخير.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications