resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: عورت کے بہت زیادہ لمبے بالوں کو کاٹنے کا حکم(5480-No)

سوال: السلام علیکم،
اگر عورت کے بال اتنے لمبے ہوں کہ ان کو سنبھالنا مشکل ہو اور الجھے رہتے ہوں تو کیا عورت ایسی صورت میں بال کاٹ سکتی ہے؟

جواب: شریعت نے عورتوں کے لمبے اور گھنے بالوں کو زینت کا باعث قرار دیا ہے، لہٰذا بغیر کسی عذر کے بالوں کو چھوٹا کرنے سے احتراز کرنا چاہیے، لیکن اگر بال اس قدر گھنے اور لمبے ہوں جو سرین (کولہے) سے بھی نیچے ہوجائیں، اور ان کو سنبھالنے میں غیر معمولی دشواری اور الجھن کا سامنا ہو، تو اس مجبوری کی وجہ سے سرین (کولہے) سے نیچے کے بالوں کو کاٹنے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مشکوۃ المصابیح: (ص: 233)
عن علی وعائشۃ قالا نھی رسول اﷲ ﷺ ان تحلق المرأۃ راسھا رواہ الترمذی۔

المبسوط للسرخسی: (72/26)
قال الامام السرخسیؒ: روی عن النبی انہ قال ان اللّٰہ تعالیٰ ملٰئِکۃ تسبیحہم سبحان من زین الرجال باللحی والنساء بالقرون والذوائب۔

الدر المختار: (407/6)
وفيه قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته والمعنى المؤثر التشبه بالرجال اھ۔

الطحطاوی: (203/4)
قولہ اثمت محمول علی ما اذا قصدت التشبہ بالرجال وان کان لوجع اصابھا فلا بأس بہ کذا فی الھندیۃ عن الکبریٰ۔

فتاویٰ رحیمیه: (120/10)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

aourat ka bht ziada lambay balon ko katnay ka hukum, Ruling / order to cut excessively long hair of a woman

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues