عنوان: کیا عدت میں بیٹھی ہوئی عورت اپنے گھر کے علاوہ رات گزار سکتی ہے؟(105501-No)

سوال: السلام علیکم، اگر کوئی عورت عدت میں ہو اور کسی اشد ضرورت میں گھر سے نکلے اور اس کو رات ہو جائے تو کیا وہ رات گھر سے باہر گزار سکتی ہے یا اسے ہر حال میں رات اپنے گھر گزارنی ہے ؟

جواب: عدت کے دوران عورت کو شدید ضرورت و مجبوری کے بغیر گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے، شدید مجبوری کے وقت گھر سے باہر نکلنے کی صورت میں دن کے وقت بقدر ضرورت باہر جانے کی اجازت ہے، مگر اس صورت میں بھی رات سے پہلے پہلے واپس اپنے گھر پر پہنچنا ضروری ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الدر المختار مع الرد المحتار:

(ومعتدة موت تخرج في الجديدين وتبيت) أكثر الليل (في منزلها) لأن نفقتها عليها فتحتاج للخروج، حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلايحل لها الخروج، فتح. وجوز في القنية خروجها لإصلاح ما لا بد لها منه كزراعة ولا وكيل لها".

(ج:3، ص: 536)

کذا فی البحر الرائق:

قوله: ومعتدة الموت تخرج يوماً وبعض الليل ) لتكتسب لأجل قيام المعيشة؛ لأنه لا نفقة لها، حتى لو كان عندهاكفايتها صارتكالمطلقة؛ فلايحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلاً ولا نهاراً. والحاصل: أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة، فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لايحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها، كذا في فتح القدير".

(ج؛4، ص:166، ط: دارالمعرفة)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 298
kia eddat mai bethi hoi aourat apne ghar kay elawa rat guzaar sakti hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.