عنوان: کھانے کی ایک 'ڈش' کو 'حلیم' کہنے کا حکم(100056-No)

سوال: آج کل کچھ لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ کھانے کی چیز کو حلیم کہنا اللہ تعالیٰ کے نام کی بےحرمتی ہے، کیا یہ واقعی بےحرمتی ہے؟

جواب: حلیم عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی تحمل اور برداشت ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام بھی ہےاور یہی لفظ حلیم اردو میں ایک خاص قسم کے کھانے کا نام ہے، ایک لفظ کے متعدد معنی ہوسکتے ہیں یا دو مختلف زبانوں کے الفاظ متحد الصوت یامتحد الصورت ہوسکتے ہیں، قرینہ سے جو معنی متعین ہوجائے، وہی معنی مراد ہوں گے، بسا اوقات دوسرے معنی کا تصور یا تخیل بے ادبی قرار پاتا ہے، پس آپ وہم میں نہ پڑیں، اردو زبان میں حلیم جس کھانے کو کہا جاتا ہے، اسے حلیم کہہ بھی سکتے ہیں اور حلیم کو کھا بھی سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیۃ: 235)
وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌo

تاج العروس: (526/31، ط: دار الھدایۃ)
(والحلم، بالكسر: الأناة والعقل) وقيل: ضبط النفس والطبع عن هيجان الغضب، (ج: أحلام وحلوم)۔۔۔۔۔(وهو حليم) كأمير، ومنه قوله تعالى: {إنك لأنت الحليم الرشيد} . قيل: إنهم قالوه على جهة الاستهزاء. (ج: حلماء وأحلام)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 284
khaane/khaanay ki ek/aik dish ko haleem kehnay/kehne ka hukum/hukm , Is it permissible to call one food item "haleem"?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.