عنوان: شاپنگ سینٹر، ریسٹورنٹ وغیرہ میں بینک ڈسکاؤنٹ کا حکم(105736-No)

سوال: مفتی صاحب! آج کل اسلامی غیر اسلامی دونوں طرح کے بینک کے ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے پر شاپنگ سینٹر، ریسٹورنٹ وغیرہ میں ڈسکاؤنٹ ملتا ہے، کیا اس طرح کے ڈسکاؤنٹ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ ڈیبٹ کارڈ (Debit Card) کے استعمال پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کے جائز اور ناجائز ہونے میں درج ذیل تفصیل ہے:

1۔ ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کی صورت میں کچھ پیسوں کی رعایت (Discount) ملتی ہے، اگر یہ رعایت بینک کی طرف سے ملتی ہو، تو اس صورت میں اس رعایت کا حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہوگا، کیوں کہ یہ رعایت بینک کی طرف سے کارڈ ہولڈر کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی وجہ سے مل رہی ہے، جو شرعاً قرض کے حکم میں ہے اور جو فائدہ قرض کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے، وہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔

2۔ اگر یہ رعایت اس ادارے کی جانب سے ہو، جہاں سے کچھ خریدا گیا ہے یا وہاں کھانا کھایا گیا ہے، تو یہ ڈسکاؤنٹ اس ادارے کی طرف سے تبرع و احسان ہونے کی وجہ سے جائز ہوگا۔

3۔ اگر رعایت دونوں کی طرف سے ہو(بینک یا اور وہ ادارہ جہاں سے خریداری کی گئی ہے) تو بینک کی طرف سے دی جانے والی رعایت درست نہ ہوگی۔

4۔ رعایت نہ تو بینک کی طرف سے ہو اور نہ ہی جس ادارے سے خریداری ہوئی ہے، اس کی طرف سے ہو، بلکہ ڈیبٹ کارڈ بنانے والے ادارے کی طرف سے رعایت ہو، تو اگر اس ادارے کے تمام یا اکثر معاملات جائز ہوں اور ان کی آمدن کل یا کم از کم اکثر حلال ہو، تو اس صورت میں ڈسکاؤنٹ سے مستفید ہونے کی اجازت ہوگی۔

5۔ اگر معلوم نہ ہوکہ یہ رعایت کس کی طرف سے ہے؟ تو پھر اجتناب کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ حکم سودی بینکوں کے ڈیبٹ کارڈ کے متعلق ہے، نیز سودی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز کا بھی یہی حکم ہے، جو اوپر مذکور ہے۔باقی غیر سودی بینکوں کے معاملات کی نگرانی مستند مفتی حضرات کر رہے ہوتے ہیں اور انہوں نے اس ڈسکاؤنٹ کے استعمال کے جواز کے لئے شرعی اصولوں کی پاسداری کی ہوتی ہے، لہذا ان علمائے کرام پر اعتماد ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز اور ڈیبٹ کارڈ ہولڈرز دونوں کے لیے، غیر سودی بینکوں کی طرف سے ملنے والے ڈسکاؤنٹ کی گنجائش ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 705
shopping centre resturant wagaira mai bank discount ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.