resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: امامِ مسجد کا اکثر نمازوں میں غیر حاضر یا تاخیر سے آنا

(57367-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ ایک امام مسجد اکثر نمازوں میں غیر حاضر رہتا ہے، مؤذن اس کی یہ ذمہ داری پوری کرتا ہے، مؤذن اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا، لیکن امام کا مؤذن کے ساتھ رویہ یہ ہے کہ مؤذن جب ایک منٹ انتظار کرنے کے بعد مصلے پر نماز پڑھانے کے لیے جاتا ہے اور اقامت ختم ہونے لگتی ہے تو امام صاحب اچانک محراب کی کھڑکی سے آکر مؤذن کو مصلے سے ہٹا دیتے ہیں، ویسے وہ مسجد کے دروازے سے آتے ہیں، جبکہ مسجد کمیٹی نے بھی انہیں بولا ہے کہ جب مؤذن مصلے پر ہوگا تو آپ انہیں ہٹا نہیں سکتے بلکہ آپ مقتدی بن کر پیچھے کھڑے ہوں گے، معلوم یہ کرنا ہے کہ امام کا اس طرح رویہ اختیار کرنا کیسا ہے؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ تفصیلات اگر واقعتاً درست ہیں تو امام کا مذکورہ روّیہ مناسب نہیں ہے، تاہم ایسے مواقع پر مسجد کے تقدّس اور ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف حجّت بازی کے بجائے امام اور انتظامیہ کا آپس میں بیٹھ کر مسائل کو حل کرنا بہت اہم ہوتا ہے، لہذٰا مسجد اور نمازیوں کے فائدے کی خاطر ایک دوسرے کے لیے رکاوٹ بننے کے بجائے خوش گوار ماحول میں بیٹھ کر باہمی افہام وتفہیم کے ساتھ مسجد کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

القرآن الكريم: (الحجرآت، الآية: 10)
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِخۡوَةࣱ فَأَصۡلِحُوا۟ بَیۡنَ أَخَوَیۡكُمۡۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)