سوال:
محترم مفتی صاحب! ایک مشہور اسٹریٹجی ویڈیو گیم Bloons TD (BTD) کے متعلق خصوصاً سورۂ مائدہ کی آیت إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ...الخ (المائدۃ: 90) کی روشنی میںشرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
اس گیم کی بنیادی تفصیل درج ذیل ہے:
1) بنیادی گیم پلے: اس گیم میں کارٹون بندر مختلف قسم کے غباروں کو تیر، ڈارٹس اور دیگر صلاحیتوں کے ذریعے پھاڑتے ہیں۔ گیم میں نہ فحاشی پائی جاتی ہے، نہ جادوگری یا اسلام مخالف مناظر، بلکہ اس کا اصل مقصد حکمتِ عملی (Strategy) کے ذریعے مختلف مراحل مکمل کرنا ہے۔
2) مفت اتفاقی (Random) انعامات: گیم میں روزانہ مفت انعامات، ریوارڈ وہیلز اور چیسٹس (Chests) دی جاتی ہیں، جنہیں کھولنے کے لیے کسی قسم کی حقیقی رقم یا خریدی گئی کرنسی خرچ نہیں کرنی پڑتی۔ ان میں ملنے والے انعامات مکمل طور پر اتفاق (Luck/Randomness) پر مبنی ہوتے ہیں۔
3) ادائیگی کے ذریعے خریداری: گیم میں حقیقی رقم سے پریمیم اِن گیم کرنسی خریدنے کا اختیار بھی موجود ہے، جس کے ذریعے کھلاڑی Loot Boxes یا اضافی اسپنز خرید سکتے ہیں، جن میں ملنے والی اشیاء بھی اتفاقی (Random) ہوتی ہیں۔
درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
1) کیا صرف مفت ملنے والے اتفاقی (Random) انعامات، جن کے حصول کے لیے کوئی مالی ادائیگی نہیں کی جاتی، شرعی اعتبار سے قمار (المیسر) کے حکم میں آئیں گے، جبکہ ان کا انحصار محض قسمت پر ہوتا ہے؟
2) اگر کوئی شخص اس گیم میں حقیقی رقم یا خریدی گئی کرنسی ہرگز استعمال نہ کرے، بلکہ صرف مفت فیچرز سے فائدہ اٹھائے، تو کیا اس کے لیے اس گیم کو کھیلنا جائز ہوگا؟
3) عمومی طور پر ایسے ویڈیو گیمز کے بارے میں شریعت کی کیا رہنمائی ہے جن میں مفت اتفاقی انعامات (Free Random Rewards) موجود ہوں، لیکن ادائیگی کے ذریعے قسمت آزمائی (Paid Loot Boxes) کا اختیار بھی دیا جاتا ہو؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: 1) مذکورہ گیم میں مفت طور پر ملنے والے اتفاقی (Random) انعامات شرعی اعتبار سے قمار (جوا) کے حکم میں داخل نہیں ہوتے، اگرچہ ان کا حصول مکمل طور پر اتفاق پر موقوف ہو؛ کیونکہ قمار کی حقیقت یہ ہے کہ انسان ایسی جگہ پر اپنا مال داؤ پر لگائے، جہاں کسی غیر یقینی معاملے کی بنیاد پر نفع و نقصان دونوں کا احتمال ہو، جبکہ مذکورہ گیم میں مفت انعامات ملنے کی صورت میں کھیلنے والے کو کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا۔
2) اگر یہ گیم دیگر تمام شرعی قباحتوں (مثلا جوا، عریانی، میوزک وغیرہ) سے پاک ہو، اور کوئی شخص صرف مفت فیچرز استعمال کرتے ہوئے محدود وقت کے لیے جائز تفریح کی غرض سے اسے کھیلے، نیز اس کی وجہ سے فرائض، واجبات یا دیگر ضروری ذمہ داریوں میں کوتاہی نہ ہو، تو اس کی گنجائش ہے۔ البتہ اگر اس میں مذکورہ بالا شرعی قباحتوں میں سے کوئی موجود ہو یا کھیل میں اس قدر انہماک اختیار کرنا کہ دینی و دنیوی ذمہ داریوں میں خلل آئے، تو پھر اس گیم کو کھیلنا شرعاً درست نہیں۔
3) ایسے ویڈیو گیمز جن میں مفت فیچرز کے ساتھ ادائیگی کا اختیار بھی موجود ہو، ان تمام گیمز کا حکم ایک جیسا نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر ادائیگی کسی متعین اور معلوم چیز کے حصول کے لیے ہو، اور اس چیز کی خریدنے میں شرعی طور پر کوئی اور قباحت موجود نہ ہو تو اصولی طور پر اس کی گنجائش ہے۔
البتہ اگر ادائیگی صرف قسمت آزمائی کے لیے ہو اور اس کے بدلے میں اتفاقی (Random) انعامات، مثلاً لوٹ باکس (Loot Box)، مسٹری باکس (Mystery Box) ملتے ہوں، اور یہ معلوم نہ ہو کہ بدلے میں کیا چیز ملے گی، تو یہ صورت "غرر" اور "قمار" (جوا) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (لقمان، الایة: 6)
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ o
روح المعاني: (66/11، ط: دار الکتب العلمية)
ولهو الحديث على ما روي عن الحسن: كل ما شغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها.
تكملة فتح الملهم: (258/4، ط: دار العلوم کراتشی)
فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل علي معصية أخري، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الاخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه.
رد المحتار: (403/6، ط: سعید)
لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي.
بدائع الصنائع: (156/5، ط: سعيد)
وأما شرائط الصحة فأنواع..... (ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة.فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی