resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ٹیکسٹ میسج (Text Msg) کے ذریعے قبول کرنے سے نکاح کا حکم

(57371-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! میرا ایک شخص سے 2024 میں آن لائن تعارف ہوا، بعد میں 2025 میں میں نے اس سے نکاح کی خواہش ظاہر کی، جس پر وہ راضی ہوگیا، تاہم نکاح درج ذیل صورت میں ہوا:
ہم دونوں مختلف شہروں میں موجود تھے اور اس سے پہلے کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی، نکاح ایک دوست نے پڑھایا، کوئی امام یا عالم موجود نہیں تھا،
دولہا نے اپنے گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کیا، میں نے اپنی طرف سے "قبول ہے" تحریری پیغام (Text Message) کے ذریعے بھیجا، میرے گواہوں نے میرا بھیجا ہوا پیغام دیکھا، لیکن جب میں نے قبول کیا اس وقت وہ میرے پاس موجود نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے براہِ راست میرا ایجاب و قبول سنا، مہر مقرر کیا گیا تھا، لیکن میں نے اس وقت اسے وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا، یہ نکاح ہمارے دونوں خاندانوں سے مخفی رکھا گیا تھا۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
1) کیا مذکورہ طریقے سے منعقد ہونے والا نکاح شرعاً درست اور معتبر ہے؟
2) خصوصاً اس صورت میں جبکہ میری طرف سے ایجاب و قبول صرف ٹیکسٹ میسج کے ذریعے ہوا اور میرے گواہ اس وقت بالمشافہ موجود نہیں تھے، کیا نکاح منعقد ہوگیا؟
3) اگر اس طریقے سے نکاح درست نہیں ہوا، تو کیا اب شرعی تقاضوں کے مطابق نیا نکاح (تجدیدِ نکاح) کرنا ضروری ہوگا؟ قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً مذکورہ تفصیلات درست ہیں تو یہ نکاح درست نہیں ہوا ہے، کیونکہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ لڑکے اور لڑکی یا ان کے وکیل شرعی گواہوں (دو عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول کریں یا اگر تحریری طور پر شوہر کی طرف سے ایجاب کیا جائے تو عورت دو گواہوں کے سامنے وہ تحریر پڑھ کر سنائے اور پھر ان سے کہے کہ تم گواہ رہو، میں نے یہ ایجاب قبول کرلیا ہے، جبکہ پوچھی گئی صورت میں آپ کی طرف سے "قبول" ان میں سے کسی طریقے کے مطابق نہیں پایا گیا ہے، لہٰذا یہ نکاح منعقد نہیں ہوا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھدایة: (185/1، ط: دار احياء التراث العربي)
قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين مسلمين بالغين عاقلين أو رجل أو وامرأتين۔

بدائع الصنائع: (231/2، ط: دار الكتب العلمية)
ثم النكاح كما ينعقد بهذه الالفاظ بطريق الاصالة ينعقد بها بطريق النيابة بالوكالة والرسالة؛ لان تصرف الوكيل كتصرف الموكل وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلی الله عليه وسلم أم حبيبة رضي الله عنها فلا يخلو ذلك اما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وان فعله بغير امره فقد اجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده والاجازة اللاحقة كالوكالة السابقة.

رد المحتار: (12/3، ط: دار الفکر)
"قال ینعقد النکاح بالکتاب کما ینعقد بالخطاب وصورته ان یکتب الیھا یخطبھا فاذا بلغھا الکتاب أحضرت الشھود و قرأته علیھم وقالت زوجت نفسی منه او تقول ان فلانا کتب الی یخطبنی فاشھد واانی زوجت نفسی منه اما لو لم تقل بحضر تھم سوی زوجت نفسی من فلان لا ینعقد لان سماع الشطرین شرط صحة النکاح و باسماعھم الکتاب اوالتعبیر عنه منھا قد سمعوا الشطرین".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah