resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: روزانہ والدہ کی قبر پر جانا

(58390-No)

سوال: میں اپنی والدہ کی وفات کے بعد سے تقریباً گزشتہ دو سالوں سے روزانہ ان کی قبر پر حاضری دیتا ہوں، میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آیا یہ عمل بدعت یا شرک کے زمرے میں تو نہیں آتا اور اس بارے میں کیا رہنمائی ملتی ہے؟ کیا روزانہ جانا مناسب اور قابلِ قبول ہے؟

جواب: ہفتے میں ایک دفعہ قبرستان جانا فقہاء کرام نے مستحب لکھا ہے، لیکن روزانہ جانے سے بھی منع نہیں فرمایا، اس لیے محض روزانہ جانے کی وجہ سے اسے بدعت یا شرک نہیں کہا جائے گا، بشرطیکہ اس میں کوئی غیرشرعی عقیدہ یا عمل شامل نہ ہو اور روزانہ والدہ کی قبر پر جانے کو سنت یا لازم نہ سمجھا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (242/2، ط: دار الفکر)
(قوله وبزيارة القبور) أي لا بأس بها، بل تندب كما في البحر عن المجتبى، فكان ينبغي التصريح به للأمر بها في الحديث المذكور كما في الإمداد، وتزار في كل أسبوع كما في مختارات النوازل. قال في شرح لباب المناسك إلا أن الأفضل يوم الجمعة والسبت والاثنين والخميس، فقد قال محمد بن واسع: الموتى يعلمون بزوارهم يوم الجمعة ويوما قبله ويوما بعده، فتحصل أن يوم الجمعة أفضل اه.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza