سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! بیلڈانگا مسلم معاشرے کے لوگ قومی شاہراہ نمبر 34 کے متصل ایک زمین کو ویسٹڈ (Wasted) زمین سمجھ کر کافی عرصے سے قبرستان کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں اور اس میں میتوں کی تدفین بھی ہوتی رہی ہے، بعد میں جب مذکورہ زمین کی سرکاری طور پر جانچ پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ زمین ویسٹڈ زمین نہیں بلکہ سرکاری زمین ہے۔
گزشتہ تقریباً بیس سال سے مذکورہ جگہ پر کسی میت کی تدفین نہیں ہوئی ہے، حال ہی میں قومی شاہراہ کو فور لین میں تبدیل کرنے کے دوران مذکورہ قبرستان کی نصف سے بھی زیادہ زمین سڑک میں شامل کر دی گئی ہے، جبکہ باقی ماندہ حصہ بھی سڑک کی مٹی ڈال کر ہموار ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے قبروں کے کوئی واضح آثار یا نشانات باقی نہیں رہے، فی الحال اس جگہ پر تدفین بھی نہیں کی جاتی، اب معاشرے کے لوگ قبرستان کے باقی ماندہ حصے کو پیدل آمد و رفت کے راستے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ زمین چونکہ ابتدا میں ویسٹڈ زمین سمجھ کر قبرستان کے طور پر استعمال کی گئی تھی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دراصل سرکاری زمین ہے، نیز گزشتہ تقریباً بیس سال سے وہاں تدفین بھی نہیں ہوئی اور قبروں کے آثار بھی باقی نہیں رہے تو ایسی صورت میں کیا مذکورہ جگہ کو پیدل چلنے یا عام آمدورفت کے راستے کے طور پر استعمال کرنا شرعاً جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ اور اگر قبریں مٹی کے نیچے موجود ہوں تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ براہِ کرم قرآن و حدیث اور معتبر کتبِ فقہِ حنفی کی روشنی میں مسئلہ کی تفصیلی اور مدلل وضاحت فرمائیں۔
جواب: شرعاً اموات کا احترام اور قبرستان کے حقوق کی رعایت لازم ہے، لہٰذا قبرستان کی زمین یا وہ جگہ جو قبرستان کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہو، اس پر بلا ضرورتِ شدیدہ راستہ بنانا درست نہیں ہے، لیکن اگر دوسری طرف سے راستہ نکالنے کا کوئی اور متبادل موجود نہ ہو اور عامۃ المسلمین کو سخت حاجت ہو، نیز وہ قبریں بھی بہت پرانی ہو چکی ہوں (کہ جن کی ہڈیاں بوسیدہ ہو چکی ہوں) تو ایسی مجبوری میں مفادِ عامّہ کی خاطر وہاں راستہ بنانے کی شرعاً اجازت ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*تبیین الحقائق: ( کتاب الوقف، فصل من بنیٰ مسجدًا لم یزل ملکه عنہ حتیٰ یفرزہ عن ملکہ، 331/3، ط : المطبعۃ الکبری الامیریۃ)*
"قال -رحمه الله-: (وإن جعل شيء من الطريق مسجدا صح كعكسه) معناه إذا بنى قوم مسجدا واحتاجوا إلى مكان ليتسع فأدخلوا شيئا من الطريق في المسجد وكان ذلك لا يضر بأصحاب الطريق جاز ذلك وكذا إذا ضاق المسجد على الناس وبجنبه أرض لرجل تؤخذ أرضه بالقيمة كرها لما روي عن الصحابة أنهم لما ضاق المسجد الحرام أخذوا أرضين بكره من أصحابها بالقيمة وزادوا في المسجد الحرام وقوله كعكسه أي كما جاز عكسه وهو ما إذا جعل في المسجد ممر لتعارف أهل الأمصار في الجوامع وجاز لكل أحد أن يمر فيه حتى الكافر إلا الجنب والحائض والنفساء لما عرف في موضعه وليس لهم أن يدخلوا فيه الدواب والله أعلم بالصواب (قوله: في المتن وإن جعل شيء من الطريق مسجدا إلخ) قال الولوالجي - رحمه الله - في فتاواه مسجد أراد أهله أن يجعلوا الرحبة مسجدا أو المسجد رحبة أو أرادوا أن يحدثوا له بابا أو أرادوا أن يحولوا الباب عن موضعه فلهم ذلك فإن اختلفوا ينظر أيهم أكثر وأفضل فلهم ذلك لأنه لا تعارض لانعدام التساوي اه وكتب ما نصه قال الكمال وفي كتاب الكراهية من الخلاصة عن الفقيه أبي جعفر عن هشام عن محمد أنه يجوز أن يجعل شيء من الطريق مسجدا أو يجعل شيء من المسجد طريقا للعامة."
*وفی الشامیة: (کتاب الوقف ، مطلب فی الوقف اذا خرب و لم یمکن عمارتہ، 378/4 ط : دارالفکر)*
"(قوله: كما جاز إلخ) قال في الشرنبلالية فيه نوع استدراك بما تقدم، إلا أن يقال ذاك في اتخاذ بعض الطريق مسجدا، وهذا في اتخاذ جميعها ولا بد من تقييده بما إذا لم يضر كما تقدم ولا شك أن الضرر ظاهر في اتخاذ جميع الطرق مسجدا الإبطال حق العامة من المرور المعتاد لدوابهم وغيرها فلا يقال به إلا بالتأويل بأن يراد بعض الطريق لا كله فليتأمل اه وأجيب بأن صورته ما إذا كان لمقصد طريقان، واحتاج العامة إلى مسجد، فإنه يجوز جعل أحدهم مسجدا وليس فيه إبطال حقهم بالكلية (قوله: لا عكسه) يعني لا يجوز أن يتخذ المسجد طريقا وفيه نوع مدافعة لما تقدم إلا بالنظر للبعض والكل شرنبلالية.
قلت: إن المصنف قد تابع صاحب الدرر مع أنه في جامع الفصولين نقل أولا جعل من المسجد طريقا ومن الطريق مسجدا جاز ثم رمز لكتاب آخر، لو جعل الطريق مسجدا يجوز لا جعل المسجد طريقا لأنه لا تجوز الصلاة في الطريق فجاز جعله مسجدا، ولا يجوز المرور في المسجد فلم يجز جعله طريقا اه ولا يخفى أن المتبادر أنهما قولان في جعل المسجد طريقا بقرينة التعليل المذكور، ويؤيده ما في التتارخانية عن فتاوى أبي الليث، وإن أراد أهل المحلة أن يجعلوا شيئا من المسجد طريقًا للمسلمين فقد قيل: ليس لهم ذلك وأنه صحيح، ثم نقل عن العتابية عن خواهر زاده إذا كان الطريق ضيقا والمسجد واسعا لا يحتاجون إلى بعضه تجوز الزيادة في الطريق من المسجد لأن كلها للعامة اه والمتون على الثاني، فكان هو المعتمد لكن كلام المتون في جعل شيء منه طريقا، وأما جعل كل المسجد طريقا فالظاهر أنه لا يجوز قولا واحدا نعم في التتارخانية سئل أبو القاسم عن أهل مسجد أراد بعضهم أن يجعلوا المسجد رحبة والرحبة مسجدا أو يتخذوا له بابا أو يحولوا بابه عن موضعه، وأبى البعض ذلك قال إذا اجتمع أكثرهم وأفضلهم ليس للأقل منعه. اه.
قلت ورحبة المسجد ساحته، فهذا إن كان المراد به جعل بعضه رحبة فلا إشكال فيه وإن كان المراد جعل كله فليس فيه إبطاله من كل جهة لأن المراد تحويله بجعل الرحبة مسجدًا بدله بخلاف جعله طريقا تأمل."
*الشامية (کتاب الصلاۃ / باب صلاۃ الجنائز، مطلب في دفن المیت، 233/2، کراچی)*
"و لو بلی المیت و صار ترابًا جاز دفن غیرہ في قبرہ وزرعه و البناء علیه."
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی