عنوان: کیا حضرت مہدی فرقہ واریت کا خاتمہ کریں گے؟ (105906-No)

سوال: کیا امام مہدی علیہ السلام آکر فرقہ واریت کو ختم کر دیں گے؟

جواب: فرقہ واریت اسلام میں مذموم ہے، اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے ،اور اس سے مراد وہ فرقہ واریت ہے، جو اصول دین اور عقائد کی بنیاد پر واقع ہوا ہو نہ کہ فروعی مسائل میں، کیونکہ فروعی مسائل میں اختلاف صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے سے چلا آرہا ہے، اور اہل السنة والجماعة کے تمام مسالک اور فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالی ، جن کے درمیان فروعی اختلافات ہیں،مگر یہ سب اصولِ دین اورعقائد میں متفق اور متحد ہیں، ایک دوسرے کو گمراہ نہیں کہتے ہیں، اس کے برعکس جو لوگ اصول دین اورعقائد کے اعتبار سے متفرق ہیں، وہ ایک دوسرے کو کافر اور گمراہ کہتے ہیں۔

لہذا حنفی، مالکی ،شافعی اور حنبلی مسالک کو "فرقے" کہنا غلط ہے۔

اس ساری تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت مہدی کی حیثیت خود مجتہد کی ہوگی اور ان کا طرز صحابہ کرام کا سا ہوگا، جس طرح صحابہ کرام کے درمیان بعض فروعی مسائل میں اختلاف تھا، اسی طرح حضرت مہدی کے آنے کے بعد بھی ائمہ کرام سے اختلاف ممکن ہے، یہ اختلاف فرقہ واریت میں داخل نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

والمراد من ہذا التفرق، التفرق المذموم الواقع في أصول الدین، وأما اختلاف الأمة في فروعہ فلیس بمذموم بل من رحمة اللہ سبحانہ فإنک تری أن الفرق المختلفة في فروع الدین متحدون في الأصول ولا یضلل بعضہم بعضا وأما المتفرقون في الأصول فیکفر بعضہم بعضًا ویضللون۔

(ج:۱۳، ص:۶، ط: مرکز الشیخ ابی الحسن ندوی) 

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 312
kia hazrat mehdi firqa wariat ka khatma karaingy?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.