سوال:
السلام علیکم، مجھے ایک بات سمجھنی ہے۔ سورۃ الأنبیاء، آیت 46 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
ترجمہ:"اور اگر انہیں آپ کے رب کے عذاب کی ایک ہلکی سی چُھون بھی پہنچ جائے تو وہ کہیں گے: ہائے ہماری بدبختی! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔"
اس آیت میں "نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ" سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کا مطلب اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے کسی عذاب کا ہلکا سا لمس یا بہت معمولی حصہ ہے، جسے انسان صرف تھوڑی دیر کے لیے محسوس کرے، جبکہ اصل عذاب اس سے کہیں زیادہ شدید اور سخت ہو؟
جواب: جی ہاں! مذکورہ آیت میں "نَفْحَةٌ مِنْ عَذَابِ رَبِّكَ" سے مراد عذاب کا بالکل معمولی سا حصہ ہے، جس کو معمولی سی گرفتِ خداوندی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*التفسير المظهري: (199/6، ط: مكتبة الرشيدية)*
وَلَئِنْ مَسَّتْهُمْ جواب قسم محذوف نَفْحَةٌ قال ابن عباس طرف وقيل قليل وقال ابن جريح نصيب من قولهم نفح فلان لفلان من ماله اى أعطاه حظا منه وقيل ضربة من قولهم نفحت الدابة برجلها واصل النفح هبوب رائحة الطيب وفيه مبالغات ذكر المس وما في النفحة من معنى القلة والبناء الدال على المرة.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی