سوال:
﴿تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ﴾ میرا سوال «تَلْفَحُ» کے بارے میں ہے، ایک معروف اسکالر نے اس لفظ کا لغوی معنی "گرم ہوا کا جھونکا" (Hot breeze) بتایا ہے، جبکہ میں نے جو تفاسیر پڑھی ہیں، ان میں اس کا معنی جلانا، جھلسانا یا شدید گرمی سے چہرے کو متاثر کرنا بیان کیا گیا ہے۔
کیا آپ وضاحت فرما سکتے ہیں کہ «تَلْفَحُ» کا اصل عربی لغوی معنی کیا ہے؟ کیا اس کا لفظی معنی "گرم ہوا کا جھونکا" ہے اور تفاسیر میں جلانے یا جھلسانے کا ذکر اس کے اثر کے طور پر کیا گیا ہے؟ یا «تَلْفَحُ» کا براہِ راست معنی ہی "جھلسانا/جلانا" ہے؟
براہِ کرم عربی لغت اور معتبر تفاسیر کی روشنی میں اس لفظ کا صحیح اور درست مفہوم واضح فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ عربی اور اردو زبان کی کئی معتبر تفاسیر، اور اسی طرح لغت کی مختلف کتابوں میں "تَلْفَحُ" کا ترجمہ "جھلسنے" سے کیا گیا ہے۔ چنانچہ اردو زبان کی معتبر اور معروف تفسیر معارف القرآن میں مذکورہ آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"جھلس دے گی ان کے منہ کو آگ اور وہ اس میں بدشکل ہو رہے ہوں گے۔" (معارف القرآن، 331/6)
لہٰذا معتبر تفاسیر میں مذکورہ آیت کے بیان کردہ ترجمہ اور معنی کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*روح المعاني: (265/9، ط: دار الكتب العلمية)*
وقوله تعالى: تلفح وجوههم النار جملة حالية أو مستأنفة، واللفح مس لهب النار الشيء وهو كما قال الزجاج أشد من النفح تأثيرا، والمراد تحرق وجوههم النار، وتخصيص الوجوه بذلك لأنها أشرف الأعضاء فبيان حالها أزجر عن المعاصي المؤدية إلى النار وهو السر في تقديمها على الفاعل.
*التفسير الكبير للرازي: (296/23، دار إحياء التراث العربي)*
قوله: تلفح وجوههم النار قال ابن عباس رضي الله عنهما أي تضرب وتأكل لحومهم وجلودهم، قال الزجاج: اللفح والنفخ واحد إلا أن اللفح أشد تأثيرا.
*القاموس الوحید: (ص: 1483، ط: ادارہ اسلامیات)*
لفحته النار أو السموم- لفحا ولفحانًا: آگ یا لو کا چہرے کو جھلسنا۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی