سوال:
ایک کاروبار پہلے سے چند شرکاء مل کر چلا رہے ہیں، جس میں پاپڑ اور پوپس تیار کیے جاتے ہیں۔ اس کاروبار میں موجود مشینری، پلانٹ اور خام مال کی موجودہ طے شدہ بازاری قیمت 28 لاکھ روپے ہے، جبکہ اس سابقہ دور کا 33 لاکھ روپے کا کاروباری قرضہ بھی واجب الادا ہے۔ اب اس کاروبار میں ایک نیا شریک شامل ہو رہا ہے اور وہ 20 لاکھ روپے نقد سرمایہ کاری کی یقین دہانی کروا رہا ہے۔
معاہدے کی طے شدہ صورت یہ ہے کہ نئے شریک کا 20 لاکھ روپے کا سرمایہ فوراً مشترکہ کھاتے میں جمع نہیں ہوگا بلکہ ان کے اپنے بینک اکاؤنٹ میں رہے گا، جس میں سے وہ کاروبار کی ضرورت کے مطابق پارٹیوں کو براہِ راست چیکس جاری کریں گے۔ نیز اگر ان کے پاس دیگر پارٹیوں کے چیکس موجود ہوں تو وہ ان چیکس کو سابقہ قرض خواہوں یا سپلائرز کو دے کر کاروباری لین دین اور کاروباری گردش چلائیں گے۔ جبکہ سابقہ 33 لاکھ روپے کا قرض پہلے سے موجود شرکاء کے نفع کے حصے سے بتدریج ادا کیا جانا طے پایا ہے۔
اس صورتِ حال کی روشنی میں درج ذیل شرعی امور پر رہنمائی درکار ہے:
1. کیا 33 لاکھ روپے کا پرانا کاروباری قرض صرف سابقہ شرکاء کی ذمہ داری ہوگا یا نیا شریک بھی اس کا ذمہ دار بنے گا؟ نیز اس قرض کی موجودگی میں شرکت کے سرمائے اور نفع و نقصان کا فیصد کس بنیاد پر طے کیا جائے گا؟ آیا سابقہ شرکاء کا سرمایہ 28 لاکھ اور نئے شریک کا سرمایہ 20 لاکھ مان کر کل 48 لاکھ پر تناسب بنے گا یا قرض کی وجہ سے کوئی اور شرعی حکم ہے؟
2. کیا عقدِ شرکت کے جواز کے لیے ضروری ہے کہ نیا شریک اپنا پورا 20 لاکھ روپے کا سرمایہ عقد کے وقت ہی مشترکہ کاروبار کے حوالے کرے، یا رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں رکھ کر ضرورت کے وقت چیکس کے ذریعے پارٹیوں کو ادا کرتے رہنا شرعاً درست ہے؟
3. اگر نیا شریک اپنے پاس موجود دیگر پارٹیوں کے چیکس قرض داروں یا مال فراہم کرنے والوں کو دے کر کاروباری گردش چلائے، تو کیا ان چیکس کو شرعی طور پر عقدِ شرکت کا سرمایہ (رأس المال) قرار دیا جا سکتا ہے؟
جواب: جواب سے پہلے بطورِ تمہید یہ بات واضح رہے کہ اگر ایک شخص پہلے سے کاروبار کر رہا ہو اور اس کے پاس کاروبار کا سامان یا مال موجود ہو، جبکہ دوسرا شخص نقد رقم لے کر اس کاروبار میں شریک ہونا چاہتا ہو تو صرف نقد رقم شامل کرلینے سے شرکت مکمل نہیں ہوگی، بلکہ ضروری ہے کہ نیا شریک کاروبار کے موجودہ مال میں بھی حصہ دار بنے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سے کاروبار کرنے والا شریک جس تناسب سے دوسرے شخص کو اپنے کاروبار میں شریک کرنا چاہتا ہے، اسی تناسب سے اپنے کاروبار کے مال میں سے حصہ اسے فروخت کردے اور اس کا قبضہ بھی دے دے، اس طرح نیا شریک بھی کاروبار کے مال میں شریک ہوجائے گا، اس کے بعد دونوں شرکاء اپنا سرمایہ کاروبار میں شامل کرکے کاروباری معاملات میں استعمال کرسکتے ہیں۔ اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درجِ ذیل ہیں:
1) نیا شریک سابقہ قرض میں شامل نہ ہوگا بلکہ وہ قرض سابقہ دو شرکاء کے ذمہ لازم ہوگا۔ اسی طرح نئے معاہدے کے شرائط و احکام نئے سرے سے طے کیے جائیں گے اور سابقہ معاہدے کی وجہ سے اس نئے معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
2) عقدِ شرکت کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مذکورہ بالا طریقے کے مطابق نئے شریک کو کاروبار کے موجودہ مال میں شریک کیا جائے، لہٰذا نئے شریک کے لیے صرف اپنے 20 لاکھ روپے مشترکہ کاروبار کے حوالے کر دینا یا یہ رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں رکھ کر کاروبار میں شریک ہوجانا کافی نہیں، بلکہ شرعی طریقے کے مطابق اسے کاروبار کے مال میں حصہ دار بنانا ضروری ہوگا۔
3) جب تک نیا شریک مذکورہ شرعی طریقے کے مطابق کاروبار کے مال میں شریک ہوکر عقدِ شرکت میں شامل نہیں ہوتا، اس وقت تک اس کے 20 لاکھ روپے کو عقدِ شرکت کا سرمایہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (371/1، ط: سعيد)
(وصحت بعرض) هو المتاع غير النقدين ويحرك قاموس (إن باع كل منهما نصف عرضه بنصف عرض الآخر ثم عقداها) مفاوضة أو عنانا، وهذه حيلة لصحتها بالعروض وهذا إن تساويا قيمة، وإن تفاوتا باع صاحب الأقل بقدر ما تثبت به الشركة ابن كمال، فقوله بنصف عرض الآخر اتفاقي.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی