سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتیانِ کرام! تقریباً 60 سال قبل، سن 1966ء میں ہمارے بزرگوں کو کاروبار میں شدید مالی نقصان ہوا تھا، جس کی وجہ سے بعض لوگوں کے کاروباری واجبات ان کے ذمہ رہ گئے اور وہ ادا نہ ہوسکے، اب ہم ان کے ورثاء کی حیثیت سے یہ واجبات ادا کرکے اپنے بزرگوں کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اصل حق داروں کا اب کوئی سراغ یا رابطہ دستیاب نہیں اور ان کے شرعی ورثاء کے بارے میں بھی معلومات نہیں مل رہیں۔ براہِ کرم درج ذیل امور کے بارے میں رہنمائی فرمائیں:
1) اگر اصل حق دار یا ان کے ورثاء تلاش کرنے کی حتی الامکان کوشش کے باوجود نہ مل سکیں تو اس رقم کا شرعی طور پر کیا کیا جائے؟ کیا ان کی طرف سے یہ رقم مستحقِ زکوٰۃ فقراء و مساکین کو صدقہ کی جاسکتی ہے؟ کیا ایسی رقم کو اصل حق دار کی طرف سے مسجد کی تعمیر یا مرمت، مدرسہ، ہسپتال یا کسی دوسرے رفاہی و خیراتی کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے؟
2) 1966ء میں جو رقم واجب الادا تھی، تقریباً 60 سال بعد آج اس کی ادائیگی کے وقت شرعاً صرف اصل رقم ادا کرنا لازم ہے یا مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کو بھی ملحوظ رکھا جائے گا؟
3) اگر اس پرانے واجب الادا مال سے متعلق کوئی زمین یا پلاٹ خریدا یا بیچا گیا ہو تو کیا موجودہ مارکیٹ ویلیو کا اعتبار ہوگا یا 1966ء کی اصل رقم کا؟
4) اگر اصل رقم کا قطعی حساب دستیاب نہ ہو اور صرف خاندانی حساب کتاب یا یادداشت کی بنیاد پر ایک تخمینی رقم معلوم ہو تو ایسی صورت میں شرعاً کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ براہِ کرم اس معاملے میں شرعی طریقۂ کار کی وضاحت فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں آپ کے بزرگوں کے ذمّہ لوگوں کے جو واجبات باقی ہیں، ان کی ادائیگی ان کے اپنے ترکہ سے کرنا لازم ہے، (ترکہ تقسیم ہوچکا ہوتو ورثاء پر وہ واپس کرنا لازم ہوگا)، البتہ ترکہ نہ ہونے کی صورت میں ورثاء پر اپنے مال سے ادائیگی لازم نہیں، تاہم اگر ورثاء اپنی خوشی اور رضامندی سے بطورِ احسان ادا کردیں تو یہ باعثِ اجر وثواب ہوگا۔
(1) اگر حتی الامکان تلاش کے باوجود اصل حق دار یا ان کے شرعی ورثاء کا سراغ نہ مل سکے تو واجب الادا رقم اصل حق داروں کی طرف سے صدقہ کردی جائے، بہتر یہ ہے کہ یہ رقم مستحق فقراء کو مالک بناکر دی جائے، البتہ یہ رقم براہِ راست مسجد کی تعمیر و مرمت یا دیگر رفاہی کاموں میں خرچ کرنے کی بھی گنجائش ہے، تاہم اگر بعد میں اصل حق دار یا اس کے ورثاء مل جائیں اور وہ صدقہ پر راضی نہ ہوں تو انہیں رقم ادا کرنا لازم ہوگا۔
(2) اگر واجبات رقم کی صورت میں تھے تو اتنی ہی رقم ادا کرنا لازم ہے، مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اضافی رقم ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔
(3) اگر کوئی پلاٹ خریدا تھا اور اس کی طے شدہ قیمت ابھی تک ادا نہیں کی تو اب بھی وہی طے شدہ قیمت ادا کرنا واجب ہے جو خریداری کے وقت مقرر ہوئی تھی، پلاٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے قیمت ادا کرنا لازم نہیں ہے اور اگر کوئی پلاٹ فروخت کیا گیا تھا، اس کی قیمت بھی وصول کرلی تھی، لیکن پلاٹ خریدار کے حوالے نہیں کیا تھا تو وہی پلاٹ خریدار کے حوالے کرنا لازم ہے۔
(4) اگر اصل واجب الادا رقم کا قطعی حساب دستیاب نہ ہو تو پرانے حسابات، قرائن اور معتبر معلومات کی بنیاد پر غالب گمان سے رقم متعین کی جائے اور احتیاطاً اتنی رقم مزید شامل کرلی جائے کہ واجب الادا حق کی ادائیگی کا اطمینان ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*حاشية ابن عابدين (4/ 283، ط: دار الفكر، بيروت):*
(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان۔ (قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم. وفي الفصول العلامية: من له على آخر دين فطلبه ولم يعطه فمات رب الدين لم تبق له خصومة في الآخرة عند أكثر المشايخ؛ لأنها بسبب الدين وقد انتقل إلى الورثة. والمختار أن الخصومة في الظلم بالمنع للميت، وفي الدين للوارث......
مطلب فيمن عليه ديون ومظالم جهل أربابها (قوله: كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها) يشمل ما إذا كانت لقطة علم حكمها، وإن كانت غيرها فالظاهر وجوب التصدق بأعيانها أيضا (قوله: سقط عنه المطالبة إلخ) كأنه والله تعالى أعلم؛ لأنه بمنزلة المال الضائع والفقراء مصرفه عند جهل أربابه، وبالتوبة يسقط إثم الإقدام على الظلم ط (قوله: يجب عليه أن يتصدق بمثله) المختار أنه لا يلزمه ذلك في القهستاني عن الظهيرية، وكذا في البحر والنهر عن الولوالجية.
*حاشية ابن عابدين (2/ 337، ط: دار الفكر، بيروت):*
ونظمها ابن الشحنة فقال: ورابعها الضوائع مثل ما لا … يكون له أناس وارثونا فمصرف الأولين أتى بنص … وثالثها حواه مقاتلونا ورابعها فمصرفه جهات … تساوى النفع فيها المسلمونا (قوله: الضوائع) جمع ضائعة أي اللقطات، وقوله: مثل ما لا إلخ مثل تركة لا وارث لها أصلا أو لها وارث لا يرد عليه .....(قوله: ورابعها فمصرفه جهات إلخ) موافق لما نقله ابن الضياء في شرح الغزنوية عن البزدوي من أنه يصرف إلى المرضى والزمنى واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك. اه.
ولكنه مخالف لما في الهداية والزيلعي أفاده الشرنبلالي أي فإن الذي في الهداية وعامة الكتب أن الذي يصرف في مصالح المسلمين هو الثالث كما مر. وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطى منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم كما في الزيلعي وغيره. وحاصله أن مصرفه العاجزون الفقراء فلو ذكر الناظم الرابع مكان الثالث ثم قال وثالثها حواه عاجزونا ورابعها فمصرفه إلخ لوافق ما في عامة الكتب۔
*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 242، ط: دار الكتب العلمية، بيروت):*
ولو لم تكسد، ولكنها رخصت أو غلت فعليه رد مثل ما قبض بلا خلاف لما ذكرنا أن صفة الثمنية باقية.
*تبيين الحقائق (4/ 143، ط: المطبعة الكبرى الأميرية، بولاق، القاهرة):*
وأجمعوا أن الفلوس إذا لم تكسد، ولكن غلت قيمتها أو رخصت فعليه مثل ما قبض من العدد۔
*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 243، ط: دار الكتب العلمية، بيروت):*
فتسليم البدلين، واجب على العاقدين؛ لأن العقد أوجب الملك في البدلين۔
*تفسير القرطبي (3/ 366، ط: دار الكتب المصرية، القاهرة):*
فإن التبس عليه الأمر ولم يدر كم الحرام من الحلال مما بيده، فإنه يتحرى قدر ما بيده مما يجب عليه رده۔
*حاشية ابن عابدين (2/ 295، ط: دار الفكر، بيروت):*
قال في البحر: وقعت حادثة هي أن من شك هل أدى جميع ما عليه من الزكاة أم لا بأن كان يؤدي متفرقا ولا يضبطه هل يلزمه إعادتها ومقتضى ما ذكرنا لزوم الإعادة حيث لم يغلب على ظنه دفع قدر معين؛ لأنه ثابت في ذمته بيقين فلا يخرج عن العهدة بالشك. اه.
قلت: وحاصله أنه يتحرى في مقدار المؤدى: كما لو شك في عدد الركعات، فما غلب على ظنه أنه أداه سقط عنه وأدى الباقي، وإن لم يغلب على ظنه شيء أدى الكل، والله تعالى أعلم.
*الأشباه والنظائر (ص63، ط: دار الكتب العلمية، بيروت):*
وأما أكبر الرأي وغالب الظن فهو الطرف الراجح إذا أخذ به القلب، وهو المعتبر عند الفقهاء كما ذكره اللامشي في أصوله۔ وحاصله: أن الظن عند الفقهاء من قبيل الشك؛ لأنهم يريدون به التردد بين وجود الشيء وعدمه سواء استويا، أو ترجح أحدهما، وكذا قالوا في كتاب الإقرار: لو قال: له علي ألف درهم في ظني لا يلزمه شيء؛ لأنه للشك (انتهى)۔ وغالب الظن عندهم ملحق باليقين، وهو الذي يبتنى عليه الأحكام يعرف ذلك من تصفح كلامهم في الأبواب، صرحوا في نواقض الوضوء بأن الغالب كالمتحقق، وصرحوا في الطلاق بأنه إذا ظن الوقوع لم يقع، وإذا غلب على ظنه وقع.
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی