سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ایک دن میں صبح 8 بجے ڈیوٹی پر گیا، کچھ کام سے واپس گھر آیا تو دیکھا کہ میری بیوی اپنی خالہ کے بیٹےکے ساتھ کمرے میں اکیلی موجود تھی، کمرے کا دروازہ کھلا تھا، میری بیوی کی بہن جو کہ میری بیوی کی دیورانی بھی ہے وہ صحن میں چارپائی پر بیٹھی تھی، لعان یا فسخ کی کوئی بات نہیں۔
یہ دیکھ کر مجھے غصہ آیا، میں واپس ڈیوٹی پر چلا گیا اور ڈیوٹی پر پہنچ کربیوی کو کال کی اور کہا کہ "اگر آج تم خالہ کے بیٹے کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گئی تو تمہیں طلاق ہے اور ادھر ہی رہنا، واپس آنے کی ضرورت نہیں اور تمہیں پہلا نوٹس مل جائے گا" اور کال کاٹ دی۔ میری نیت ایک طلاق کی تھی اور "پہلا نوٹس" سے مراد یونین کونسل کو دیا جانے والا قانونی نوٹس تھا، میں اس وقت اپنے ہوش و حواس میں تھا۔
میری بیوی اسی وقت احسان کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چلی گئی، ڈیوٹی کے بعد جب میں والد کے گھر آیا تو پتہ چلا کہ وہ واقعی چلی گئی ہے، میں نے پھر کال کر کے کہا کہ "جہاں گئی ہو وہیں رہو اور اپنا پتہ بتاؤ تاکہ طلاق کا نوٹس بھجوا سکوں"۔ میری بیوی نے کہا "ہمت ہے تو ادھر آ کر بات کرو"۔ پتہ چلا کہ وہ واپس آ چکی ہے تو میں گھر ایک طلاق دینے گیا، لیکن میری بیوی اورسالی دونوں نے مجھے بولنے کا موقع دیے بغیر مارا اور گھر سے نکال دیا، میں نے ایک لفظ بھی نہیں بولا۔
اکتوبر 2024 کے بعد سے آج تک میرا اپنی بیوی سے کوئی تعلق نہیں، نہ زبانی بات، نہ کال، نہ ملاقات، اس کے نمبر بلاک ہیں۔ دورانِ عدت کوئی خلوت، جماع یا بات چیت نہیں ہوئی اور اسی وقت سے ہم دونوں الگ الگ گھروں میں رہ رہے ہیں۔
دسمبر 2025 میں میری تائی کا انتقال ہوا، میری والدہ گئی تھیں تو وہاں دو چچییوں اور دو دیگر خواتین نے بتایا کہ میری بیوی اور سالی نے خود کہا تھا کہ "میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی تھی اس لیے ہم نے مار کر نکالا تھا"۔
سوالات:
1) کیا کوئی طلاق واقع ہوئی اور اگر ہوئی تو کتنی ہوئی؟ کیا اب بھی میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں؟ کیا دونوں کے درمیان صلح کا کوئی طریقہ ہے؟
2) اگر طلاق ہوئی تو کیا میری بیوی کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے؟ اور کیا میری بیوی کا نان و نفقہ میرے ذمہ ہے؟
3) آٹھ سالہ بیٹے کی حضانت کا کیا حکم ہے؟
مہربانی فرما کر قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں مفصل، با ضابطہ، دستخط و مہر تصدیق شدہ، مصدقہ فتویٰ عنایت فرمایا جائے۔
اہم بات: ہمارا ایک 8 سال کا بیٹا ہے۔ اکتوبر 2024 سے ہم میاں بیوی دونوں الگ الگ گھروں میں رہ رہے ہیں، میں (شوہر) اپنے والدین کے گھر میں رہ رہا ہوں، بیٹا اس وقت والدہ کے ساتھ شوہر کے گھر میں رہ رہے ہیں، دونوں گھر ساتھ ساتھ ہیں، بیٹے اور بیوی دونوں کا خرچہ میں دے رہا ہوں۔
جواب: واضح رہے کہ آپ نے اپنے الفاظ "اگر آج تم خالہ کے بیٹے کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گئی تو تمہیں طلاق" میں ایک طلاق کو خالہ کے بیٹے کے ساتھ موٹر سائیکل پر جانے پر معلق کیا تھا، لہذا جب آپ کی بیوی اپنے خالہ کے بیٹے کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر چلی گئی تو اس پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی، جس کے بعد عدت کے اندر رجوع ممکن تھا، لیکن چونکہ آپ نے رجوع نہیں کیا، اس لیے عدت گزرنے کے بعد آپ کی بیوی آپ کے نکاح سے آزاد ہوگئی ہے، اب اگر وہ چاہے تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں آپ سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے، اسی طرح اگر وہ کسی اور سے نکاح کرنا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے۔
عدت گزرنے کے بعد اب آپ کی بیوی کا خرچہ اور رہائش آپ کے ذمہ نہیں ہے، آپ کا بیٹا چونکہ سات سال سے بڑا ہے، شرعاً سات سال کے بعد لڑکوں کی تربیت کا حق والد کو حاصل ہے، لہذا آپ اپنے بچہ کو مزید پرورش اور تربیت کے لیے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الهندية: (420/1، ط: دار الفکر)
و اذا اضافه الی الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن یقول لامرأتہ إن دخلت الدار فأنت طالق۔
رد المحتار: (409/3، ط: دار الفکر)
وینکح مبانته بما دون الثلاث في العدۃ وبعدہا بالإجماع ومنع غیرہ فیها لاشتباہ النسب
الدر المختار: (566/3، ط: دار الفکر)
"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب."
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی