سوال:
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ اگر گھر سے ایک شخص چھ گھنٹے کے سفر کے لیے نکلے اور گاڑی کے انتظار میں ہو اور اس دوران گھر سے 12 کلومیٹر دوری پر ظہر کا وقت ہو جائے، جہاں ہمارا گھر بھی ہے تو وہاں ظہر کی نماز قصر پڑھنی ہوگی یا پوری؟ اور قصر نماز پڑھنے کا اعتبار اس جگہ سے ہوگا جہاں سے سفر شروع کیا تھا یا اس جگہ سے جہاں گاڑی کا انتظار کر رہے ہیں؟
سوال سے متعلق مطلوب وضاحت:
آپ کے سوال میں کچھ ابہام ہے آپ اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ مذکورہ شخص جس جگہ کی طرف سفر کے ارادہ سے جارہا ہے وہ اس کے شہر (کی آخری آبادی ) سے کتنے فاصلے پر ہے؟ اور جس جگہ وہ گاڑی کا انتظار کر رہا ہے وہ جگہ اس کے شہر کی آبادی کے اندر ہے یا باہر ہے؟
اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا۔
سائل کی طرف سے وضاحت:
وہ آدمی گاؤں سے سفر شروع کر رہا ہے، جہاں اس کا گھر ہے اور 12 کلو میٹر کی مسافت پے اس نے شہر میں گاڑی کا انتظار کرنا ہے، گاڑی کے انتظار والی جگہ شہر کے اندر گھر ہے وہ بھی اپنا ہے مگر میری رہایش اُدھر نہی ہے، جدھر سے گاڑی میں بیٹھنا ہے، شہر والے گھر سے 5 منٹ کے فاصلے پہ ہے۔ جزاک اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ کسی جگہ پر صرف ذاتی مکان یا جائیداد ہونے سے وہ جگہ وطنِ اصلی نہیں بن جاتی بلکہ وطنِ اصلی بننے کے لیے اس جگہ رہائش اختیار کرنا ضروری ہے، اس لیے مذکورہ شہر میں اگرچہ آپ کا گھر موجود ہے لیکن رہائش نہ ہونے کی وجہ سے وہ آپ کا وطنِ اصلی نہیں، بلکہ آپ کا وطنِ اصلی گاؤں ہے۔
پوچھی گئی صورت میں اگر آپ اپنے گاؤں سے 48 میل یعنی 77.24 کلو میٹر یا اس سے زائد مسافت کے ارادہ سے نکلے ہیں تو گاؤں کی آبادی ختم ہوتے ہی آپ مسافر شمار ہوں گے، شہر چونکہ آپ کے گاؤں سے الگ ہے، اس لیے اس صورت میں وہاں بھی گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے نمازوں میں قصر کرنا لازم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الهداية: (80/1، ط: دار احیاء التراث العربی)
"السفر الذي يتغير به الأحكام أن يقصد الإنسان مسيرة ثلاثة أيام ولياليها بسير الإبل ومشي الأقدام " لقوله عليه الصلاة والسلام " يمسح المقيم كمال يوم وليلة والمسافر ثلاثة أيام ولياليها " عمت الرخصة الجنس ومن ضرورته عموم التقدير وقدر أبو يوسف رحمه الله بيومين وأكثر اليوم الثالث والشافعي بيوم وليلة في قول وكفى بالسنة حجة عليهما " والسير المذكور هو الوسط " وعن أبي حنيفة رحمه الله التقدير بالمراحل وهو قريب من الأول
غنیة المستملی: (ص: 462، مکتبة نعمانیة)
من فارق بیوت موضع هو فیه من مصرأو قریة ناویا الذهاب إلی موضع بینه وبین ذلك الموضع المسافة المذکورة صارمسافرا، فلایصیرمسافرا قبل أن یفارق عمران ما خرج منه من الجانب الذی خرج منه.
رد المحتار: (131/2، ط: دار الفکر)
(قوله : أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی